خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 619 of 703

خطبات نور — Page 619

619 اگر باپ کا قاتل بیٹے کا قاتل یا کسی عزیز کا قاتل بھی ان مہینوں میں مل جاتا تو اسے علی العموم قتل نہ کرتے۔لیکن اب وہ لوگ مسلمان کہلاتے ہیں جو حاجیوں کو ایام حج میں لوٹ مار کر کے قتل کر دیتے ہیں۔مجھے میرے ایک دوست نے سنایا کہ میں ذرا الگ ہو کر پاخانہ کرنے گیا۔ایک عرب نے جو دیکھا کہ یہ اکیلا ہے۔وہ جھٹ آیا اور ایک سوٹا مار کر مجھے بیہوش کر دیا۔اس نے چھٹتے ہی روپوں پر ہاتھ صاف کیا اور رفو چکر ہو گیا۔یہ ہمارے عرب مسلمانوں کا حال ہے جو یہ اَربَعَةٌ حُرُم (التوبة:۳) کی عزت کرتے ہیں۔اب ہمارے ہندوستان کے مسلمانوں کا حال سنئے۔میں ایک دفعہ جیل خانہ کو دیکھنے گیا۔ایک جیل کا افسر میرا بڑا دوست تھا۔اس نے مجھے اپنے ساتھ لے کر تمام جیل کی سیر کروائی۔میں نے دیکھا کہ وہاں کل تین سو پینتیس قیدی تھے جن میں سے تین سو بائیس مسلمان اور کل تیرہ ہندو جو مقدمات دیوانی میں مقید ہوئے تھے۔باقی سب کے سب مسلمان تھے۔یہ دیکھ کر میرے دل پر بڑا صدمہ ہوا اور مجھے بڑا قلق ہوا۔یہ وہی بات ہے کہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے۔مجھے اس سے محبت تو تھی ہی، میرا دوست جھٹ تاڑ گیا اور میری تسلی کے لئے کہنے لگا۔حضور ! بات یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔اس لئے مسلمان قیدی زیادہ ہیں۔میں نے کہا آپ نے خوب فقرہ سنایا۔میری ان باتوں سے تسلی نہیں ہو سکتی۔اگر ضلع کے مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے تو بھیرہ میں ایک سکول ہے جہاں چودہ سولر کے تعلیم پاتے ہیں۔میں نے مدرسہ کو دیکھا ہے جس میں صرف چودہ مسلمان لڑکے تعلیم پاتے ہیں۔اگر آبادی کالحاظ تھا تو وہاں بھی مسلمان زیادہ چاہئیں تھے۔مسلمان اپنے تنزل پر ہمیشہ قسم قسم کی باتیں بتلاتے ہیں۔پردہ کا ہونا سود کا رواج نہ ہونا، انہی اسباب میں سے بتلائے جاتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر پردہ تنزل کا باعث ہے تو کنچنیاں، چوہڑے، چمار، یہ قومیں کیوں ترقی نہ کر گئیں، بلکہ عام زمیندار ہل چلانے والے ان میں بھی پردہ نہیں ہے۔یہ کیوں نہ ترقی کر گئے۔اور اگر سود کا رواج نہ ہونا تنزل کا باعث تھا تو ہندو سود خور زیادہ تباہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ جو لوگ بنکوں میں روپیہ جمع کرواتے ہیں روپیہ بڑھنے کے لئے رکھتے ہیں مگر جب بنکوں کا دیوالیہ نکل جاتا ہے تو پھر ان کا کیا حال ہوتا ہے يَمْحَقُ اللَّهُ الرِبُو وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ (البقرة: ۲۷۷) خدا سود خوروں کو تباہ کرتا ہے۔سود کھانے والے کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ لوگ شرارتیں کرتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا یا قَوْمِ الكُمْ ظَلَمْتُمُ انْفُسَكُمْ بِاتِّخَادِكُمُ الْعِجْلَ تم نے بچھڑے کو خدا بنا لیا اور اپنے اوپر ظلم کیا حالانکہ خدا کے تم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔فتُوبُوا إِلَی بَارِیكُمْ اپنے پروردگار کی طرف توجہ کرو۔