خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 546 of 703

خطبات نور — Page 546

546 قرآن مجید کا پنجابی ترجمہ اس میں پڑھا جایا کرے۔ایسا ہی دوسری زبانوں میں اصل قرآن نہ پڑھا جاوے۔مجھ سے جس شخص نے ذکر کیا میں نے اس کو کہا کہ پھر نثر سے نظم میں ہو گا۔پھر وہ نظم کسی نعمری کی شکل اختیار کرے گی اور رفتہ رفتہ اس کے ساتھ ڈھولک وغیرہ ساز ہوں گے اور یہ اچھا خاصہ تماشا ہو وے گا اور مسلمانوں میں جو چیز مشترک تھی (عربی زبان اور قرآن) وہ جاتی رہے گی اور نہ نماز کی حقیقت پیدا ہو گی۔پھر اس پر ترقی ہوئی تو میرے کانوں میں آوازیں آئیں کہ کرسیوں پر بیٹھ کر سامنے بیچ یا میز ہوں اور نماز کے لئے لوگ جمع ہو جایا کریں تو خدا تعالیٰ کی حمد میں کوئی گیت گائے۔جہاں کسی کے دل میں جوش پیدا ہووے وہ اس مقام پر یعنی میز پر ذرا سر جھکا دیا کرے۔اس قسم کی آوازیں میرے کانوں میں ترک نماز کے لئے آئیں۔پھر روزہ کے متعلق کہا کہ بھوکا رہنا بالکل بے فائدہ ہے۔اگر روزہ رکھنا ہی ہو تو اس میں اخروٹ ، میوہ جات کھالئے جایا کریں۔یہ تو تعلیم یافتہ لوگوں کی توضیح تھی۔بعض دوسرے لوگوں نے کہہ دیا کہ جو غریب ہو وہ روزہ رکھ لے اور امراء صرف فدیہ دے دیا کریں۔پھر حج کے لئے کہا گیا کہ قومی کانفرنس علی گڑھ میں شمولیت سے یہ فرض ادا ہو جاتا ہے اور کافی ہے کہ لوگ وہاں شامل ہو جایا کریں اور زکوۃ کے بدلے قومی کاموں میں چندہ دے دیا۔اب میرے کانوں میں قربانی کے روکنے کی آواز میں آتی ہیں۔یہ تمام باتیں مسلمانوں کی بد قسمتی کی ہیں۔ان کو چھوڑ کر یہ ترقی نہیں کر سکتے۔اگر اسلام ہی ان کے ہاتھ میں نہ رہا تو یہ کچھ بھی نہ ہوں گے۔پھر آپ نے قربانی کے متعلق اس کی حقیقت اور فلسفہ پر مختصری تقریر فرمائی اور بتایا کہ کس طرح پر قدرت نے قربانی کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔آپ قربانی کی حقیقت بتا رہے تھے کہ ضعف غالب ہو گیا اور تقریر کا سلسلہ بند کرنا پڑا۔اس لئے دعا پر خطبہ کو ختم کر دیا۔(بدر جلد ۱۲ نمبر ۲۲-۲۸ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۷ )۔⭑-⭑-⭑-⭑