خطبات نور — Page 431
431 : محلے کے لوگوں کو پانچ بار مسجد میں اکٹھے ہو کر دعا مانگنے کا حکم دیا۔پھر ہفتہ میں ایک دفعہ تمام گاؤں کے لوگوں کو جمع ہو کر دعا کرنے کا ارشاد کیا۔پھر سال میں عیدین ہیں جن میں مومنوں کا اجتماع لازم ٹھہرایا۔پھر ساری دنیا کے لئے مکہ مقرر فرمایا جہاں کل جہان کے اہل استطاعت مسلمان مل کر دعا کریں۔قربانی کی فلاسفی قربانی جو عید اضحی کے دن کی جاتی ہے اس میں بھی ایک پاک تعلیم ہے اگر اس میں مد نظر وہی امر رہے جو جناب الہی نے قرآن شریف میں فرمایا۔لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاوِهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج:۳۸)۔قربانی کیا ہے ؟ یہ ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل اور عالم پڑھ سکتے ہیں۔خدا کسی کے خون اور گوشت کا بھوکا نہیں۔وہ يُطْعِمُ وَلا يُطْعَمُ (الانعام:10) ہے۔ایسا پاک اور عظیم الشان بادشاہ نہ تو کھانوں کا محتاج ہے، نہ گوشت کے چڑھاوے اور لہو کا بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور اسی طرح قربان ہو جاؤ جیسے ادنی اعلیٰ کے لئے قربان ہوتا ہے۔کل دنیا میں قربانی کا رواج ہے اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنی چیز اعلیٰ کے بدلے میں قربان کی جاتی ہے۔یہ سلسلہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔(1)۔ہم بچے تھے تو یہ بات سنی تھی کہ کسی کو سانپ زہریلا کائے تو وہ انگلی کاٹ دی جاوے تاکہ کل جسم زہریلے اثر سے محفوظ رہے۔گویا انگلی کی قربانی تمام جسم کے بچاؤ کے لئے کی گئی۔(۲) اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی دوست آجاوے تو جو کچھ ہمارے پاس ہو اس کی خوشی کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے۔گھی ؛ آنا گوشت وغیرہ قیمتی اشیاء اس پیارے کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔(۳)۔اس سے زیادہ عزیز ہو تو مرغے مرغیاں حتی کہ بھیڑیں اور بکرے قربان کئے جاتے ہیں۔اس سے بڑھ کر گائے اور اونٹ تک بھی عزیز مہمان کے لئے قربان کر دئے جاتے ہیں۔(۴)۔میں نے اپنی طب میں دیکھا ہے کہ وہ قومیں جو جائز نہیں سمجھتیں کہ کوئی جاندار قتل ہو وہ بھی اپنے زخموں کے کئی سینکڑوں کیڑوں کو مار کر اپنی جان پر قربان کر دیتی ہیں۔(۵)۔اس سے اوپر چلیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ لوگوں کو اعلیٰ کے لئے قربان کیا جاتا ہے۔مثلاً چوہڑے ہیں۔آج عید کا دن ہے مگر ان کے سپر د وہی کام ہے بلکہ صفائی کی زیادہ تاکید ہے۔گویا ادنی کی خوشی اعلیٰ کی خوشی پر قربان ہوئی۔