خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 703

خطبات نور — Page 421

421 ہے۔اس میں ایک سر ہے۔میں تم میں سے کسی پر ہر گز بدظن نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھو کہ نہ لگ جائے۔وجه اختلاط پھر مجھے کہتے ہیں کہ لوگوں سے اختلاط کرتا ہے۔اس کا جواب تمہارے لئے جو میرے مرید ہیں یہی کافی ہے کہ تم میرے آمر نہیں بلکہ مامور ہو۔کیا مجھ پر بال بچے کی پرورش فرض نہیں۔بیشک وہ مجھے مخفی طور پر رزق دیتا ہے مگر اس ستار نے پردہ پوشی کا رنگ بھی رکھا ہے۔میں اس کی شان کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ستاری کہتے ہیں امام حسن بصری اور حبیب عجمی ایک دفعہ سیر کو نکلے۔راستہ میں دریا آگیا۔حبیب نے کہا چلو۔حسن نے جواب دیا ٹھہرو، وہ کشتی آئے۔اس پر حبیب نے کہا حسن! ابھی تک تم مشرک ہی ہو۔یہ کہہ کر وہ تو چلتے ہوئے۔اس زمانے کے نیچری تو نہیں مانتے مگر میں مانتا ہوں کہ وہ کنارے پہنچ گئے۔ادھر حسن ” جب کشتی آئی تو پیسہ دے کر سوار ہوئے اور دیر کے بعد پہنچے تو حبیب بولے۔ترا کشتی آورد مارا خدا۔حسن نے فرمایا۔سنو! دونو کو خدا ہی لایا۔کشتی کو خدا تعالیٰ چاہتا تو غرق کر دیتا۔تو نے صرف اپنا بچاؤ ڈھونڈا مگر میرے ساتھ کئی اور آدمی بھی آئے۔تیرا ایمان ناقص ہے۔تو خدا کی صفت ستاری کا عالم پس میں تم کو نصیحت کرتا ہوں۔پھر نصیحت کرتا ہوں۔پھر نصیحت کرتا ہوں۔پھر نصیحت کرتا ہوں۔پھر نصیحت کرتا ہوں۔پھر کرتا ہوں۔پھر کرتا ہوں۔پھر کرتا ہوں۔پھر پھر پھر کرتا ہوں کہ آپس کے تباغض و تحاسد کو دور کر دو۔یہ مجتہدانہ رنگ چھوڑ دو۔جو مجھے نصیحت کرنے میں وقت خرچ کرنا ہے وہ دعا میں خرچ کرو اور اللہ سے اس کا فضل چاہو۔تمہارے وعظوں کا اثر مجھے بڑھے پر نہیں ہو گا۔ادب کو ملحوظ رکھ کر ہر ایک کام کو کرو اور یہ میں اپنی بڑائی کے لئے نہیں کہتا بلکہ تمہارے ہی بھلے کے لئے کہتا ہوں۔جس طرح دکاندار صبح اپنی دکان کو کھولتا ہے اسی طرح میں بھی اپنی دکان کھولتا ہوں اور بیماروں کو