خطبات نور — Page 318
318 کو تاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے شریعت نے حزن رکھا ہے اور اس سے پناہ مانگنے کی تاکید فرمائی ہے۔حدیث شریف میں وارد ہے بِئْسَ الْمَطِيْئَةُ لَو لَو اگر ایسا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور یوں ہوتا تو یوں ہو جاتا) بہت بری چیز اور نقصان رساں لفظ ہے۔اس طرح اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَ الحزن کے یہ معنی ہوئے کہ یا الہی! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان بواعث اور موجبات سے جن کا نتیجہ "ہم" اور حزن ہوتا ہے۔یعنی نہ تو مجھے میں بے جا اور لمبے لمبے ارادے پیدا ہوں اور نہ میں ”کاش" اور ”لو کا استعمال کروں۔مطلب یہ کہ نہ مجھے موجودہ ناکامی کی وجہ سے کوئی غم ہو اور نہ گذشتہ کسی تکلیف کا خیال مجھے رنجیدہ اور ستانے کا باعث ہو سکے۔اس دعا کے سکھانے سے غرض اور انسان کے واسطے سبق یہ مد نظر ہے کہ انسان بہت طول امل سے پر ہیز کرتا رہے اور گزشتہ مصائب کو یاد کر کے اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالے۔کیونکہ جب انسان ہم اور حزن میں ڈوب جاتا ہے تو آئندہ ترقیوں کی راہیں بھی اس کے واسطے بند و مسدود ہو جاتی ہیں۔ہم اور حزن سے فرصت ملے نہ یہ حصول خیر اور دفع شر کے لئے کوئی تجویز سوچے۔پس اسی لئے انسان کو پھر یہ دعا سکھائی گئی کہ اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَ الْكَسْلِ- عجز کہتے ہیں اسباب کامہیا نہ کرنا۔جو سامان اللہ تعالیٰ نے کسی حصول مطلب اور دفع شر کے واسطے بنائے ہیں ان کا مہیا نہ کرنا اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر رہ جانے کو بجز کہتے ہیں۔بقدر طاقت بقدر امکان بقدر فہم اور علم کوشش ہی نہ کرنا اور تدبیر ہی نہ کرنا یہی عجز ہے۔تو کل اسے نہیں کہتے۔دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جو کہ أَعْلَمُ النَّاسِ أَخْشَى لِلهِ اور انقَى النَّاسِ تھے، ان سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی انسان ہو سکتا ہے۔تو ان کو بھر یہ حکم ہوتا ہے کہ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ (ال عمران:۱۱۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک اور بے لوث زندگی جو ہمارے واسطے قرآن شریف اور اس کے کل احکام کا ایک عملی اور زندہ نمونہ موجود ہے۔اس میں غور کرنے سے ہرگز ہرگز ایسا کبھی ثابت نہیں ہو گا کہ آپ نے بھی کبھی تو کل کے یہ معنے کئے ہوں جو آج کل بد قسمتی سے سمجھے گئے ہیں۔تو کل کے غلط معنوں کی وجہ سے ہی تو مسلمانوں میں سستی اور کاہلی گھر کر گئی۔اور ان میں سے بعض ہاتھ پاؤں تو ڑ کر لوگوں کا محنت اور جانفشانی سے کمایا ہوا مال کھانے کی تدابیر سوچنے لگے۔ہندوستان میں بارہ ریاستیں ہمارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو گئی ہیں۔کئی معزز گھرانے مرتد اور بے دین ہو گئے ہیں۔اسلام پر اعتراضات کا آرا چلتا ہے مگر کسی کو گھبرا نہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ لوگ اپنے اپنے نفسانی ہم و حزن میں مبتلا ہیں اور بچے اسباب اور ذرائع ترقی کی تلاش سے محروم و بے نصیب ہیں۔