خطبات نور — Page 307
307۔اختیار حاکم کے سامنے کسی بدی اور گناہ کا ارتکاب نہیں کر سکتا اور گناہ کرتا ہے تو چھپ کر کرتا ہے، کسی کے سامنے نہیں کرتا۔تو پھر اگر اس کو خدا پر اتنا ایمان ہو کہ وہ غیب در غیب اور پوشیده در پوشیدہ انسانی اندرونہ اور وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور یہ کہ کوئی بدی خواہ کسی اندھیری سے اندھیری کوٹھڑی میں جا کر کی جاوے اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ کہ وہ انسان کا بڑا مربی، رب، محسن اور احکم الحاکمین ہے تو پھر انسان کیوں گناہ کی جگر سوز آگ میں پڑ سکتا ہے۔پس ان باتوں میں غور کرنے سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ انسان کو خدا اور اس کی صفات اور افعال اور علیم و خبیر اور ہر بات سے واقف ہونے اور قادر مقتدر اور منتقم ،شدید البطش ہونے پر ایمان نہیں۔ہر بدی خدا کی صفات سے غافل ہونے کی وجہ سے آتی ہے۔صفات الہی پر ایمان لانے کی کوشش کرو۔انسان اگر خدا کے علیم خبیر اور احکم الحاکمین ہونے پر ہی ایمان لادے اور یقین جانے کہ میں اس کی نظر سے کسی وقت اور کسی جگہ بھی غائب نہیں ہو سکتا تو پھر بدی کہاں اور کیسے ممکن ہے کہ سرزد ہو۔غفلت کو چھوڑ دو کیونکہ غفلت گناہوں کی جڑ ہے۔ورنہ اگر غفلت اور خدا کی صفات سے بے علمی اور بے ایمانی نہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا کو قادر مقتدر اور احکم الحاکمین ، علیم و خبیر اور اخذ شدید والا مان کر اور اور یقین کر کے بھی اس سے گناہ سرزد ہوتے ہیں۔حالانکہ اپنے معمولی دوستوں، آشناؤں، حاکموں اور شرفا کے سامنے جن کا نہ علم ایسا وسیع اور نہ ان کی طاقت اور حکومت خدا کے برابر ان کے سامنے بدی کا ارتکاب کرتے ہوئے رکتا ہے اور خدا سے لا پرواہ ہے اور اس کے سامنے گناہ کئے جاتا ہے۔اس کی اصل وجہ صرف ایمان کی کمی اور صفات الہی سے غفلت اور لاعلمی ہے۔پس یقین جانو کہ اللہ اور اس کے اسماء اور صفات پر ایمان لانے سے بہت بدیاں دور ہو جاتی ہیں۔پھر انسان کی فطرت میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انسان اپنی ہتک اور بے عزتی سے ڈرتا ہے اور جن باتوں میں اسے اپنی بے عزتی کا اندیشہ ہوتا ہے ان سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔پس غور کرنا چاہئے کہ دنیا میں اس کا دائرہ بہت تنگ ہے۔زیادہ سے زیادہ اپنے گھر میں یا محلے میں یا گاؤں یا شہر میں یا اگر بہت ہی مشہور اور بہت بڑا آدمی ہے تو ملک میں بدنام ہو سکتا ہے۔مگر قیامت کے دن جہاں اولین و آخرین خدا کے کل انبیاء اولیا، صحابہ اور تابعین اور کل صالح اور متقی مسلمان بزرگ باپ دادا و پڑدادا وغیرہ اور ماں، بہن، بیوی بچے غرض کل اقرباء اور پھر خود ہمارے سرکار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں تو ذرا اس نظارے کو آنکھوں کے سامنے رکھ کر اس ہتک اور بے عزتی کا خیال تو کرو اور اس نظارے کو