خطبات نور — Page 293
293 اور کیا ترقی اس نے کی ہے۔۱۹۰۰ برس گزر گئے۔ہر اتوار کے دن گھنٹوں اور گھڑیالوں کی شور و پکار ہوتی ہے۔نہیں معلوم کیوں اور کس غرض کے لئے یہ بجائے جاتے ہیں۔کسی کو بلانے کے واسطے بجائے جاتے ہیں یا کہ شوقیہ۔اگر بلانے کو بجائے جاتے ہیں تو کس مطلب کس غرض و غایت کے واسطے بلایا جاتا ہے؟ اس بلانے میں کوئی حقیقت نہیں۔اس میں دنیا کو کوئی وعظ نہیں، تبلیغ نہیں۔برخلاف اس کے اسلام کی منادی کو دیکھو کس طرح جرات اور دلیری سے اپنے پاک اصولوں کی پنج وقتہ تبلیغ کرتے ہیں۔کس بلند آوازی سے اور کیسے بلند مقامات پر سے اور کیسی حقیقت ان الفاظ میں بھری ہے۔اول اپنے مذہب کے اصل الاصول بیان کیے جاتے ہیں پھر بلانے کی غرض و غایت۔اور پھر آنا بے فائدہ نہیں، کسی کھیل تماشے کے واسطے نہیں کوئی لہو و لعب کوئی خدا سے غافل کرنے والا یا بے حقیقت بچوں کا کھیل نہیں بلکہ اس کا نتیجہ فلاح ہے۔بھلا اس طرز دعوت اور اپنے طرز دعوت کا مقابلہ تو کر کے دیکھو پھر کہنا کہ ترقی کس نے کی ہے۔اسلامی اذان میں سارا اسلام کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔غور کرنے والا غور کرے اور سوچنے والا دل گہری سوچ کے بعد بتائے کہ بھلا اپنے مذہب کی تبلیغ اور خدا کے جلال اور اس کی عظمت اور جبروت کے اظہار کی اس سے بہتر بھی کوئی تجویز ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلی جوش ان کے بچے ارادوں اور ولولوں کا ایک سچا فوٹو ہے جس کو اللہ تعالٰی نے الفاظ اذان میں بیان کیا اور ان الفاظ کی تہ میں گویا صحابہ کرام کے سارے اغراض و مقاصد کا سچا نقشہ جناب الہی سے فرشتہ کی معرفت بھیج کر بتایا گیا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے اور انسانی فطرت میں یہ امر مرکوز ہے کہ انسان اپنے سے بڑے کی بات کو مان لیتا ہے۔آج کل کا کوئی نادان لڑکا اپنی بے ہودگی کی وجہ سے اپنے بڑے بزرگوں کی نہ مانے تو یہ اس کی بے ہودگی ہے۔انسانی صحیح فطرت میں روز ازل سے میں رکھا گیا ہے۔بڑے علم والوں، تاجروں فلاسفروں ، تجربہ کاروں سے پوچھ کر دیکھ لو کہ سب اپنے سے بڑوں کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں اور کرد یمی سلیم فطرت کا تقاضا ہے۔اگر کسی کی فطرت مسخ ہو گئی ہے تو اس کا ہم ذکر نہیں کرتے۔چنانچہ اذان میں بھی اول اللہ کے نام سے ابتدا کی ہے۔سارے محامد سے متصف ساری صفات کاملہ رکھنے والا اور سارے نقائص اور عیوب سے مبرا و منزہ ذات اس کا نام اللہ ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے اور پھر وہ اکبر ہے۔جامع جمیع صفات کاملہ اور ہر قسم کے نقائص سے منزہ ہونے کے ساتھ وہ اکبر بھی ہے یعنی بہت بڑا۔اس کے یہ معنی ہوئے کہ اب اپنے کاروبار یاروں دوستوں غرض ہر ایک کو