خطبات نور — Page 292
۱۶ مارچ ۱۹۰۸ء 292 خطبہ جمعہ تشهد تعوذ اور مسنون دعاؤں کے بعد فرمایا:۔یہ اذان جو اس وقت تم نے سنی ہے یہی جناب الہی کی طرف سے ایک فرشتہ کے ذریعہ اسلام کو سکھائی گئی ہے اور یہ ایسے پاک کلمات ہیں کہ سارے اسلام کا نچوڑ ہیں۔جس طرح سے عبادت الہی نماز روزہ اور حج وغیرہ کے طریق ہمیں بڑی حفاظت اور تواتر سے پہنچائے گئے ہیں۔ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تواتر سے ہمیں اذان کے الفاظ پہنچے ہیں۔بڑے بڑے بلند مقامات پر مناروں پر چڑھ کر بلند آواز سے پورے زور اور طاقت سے پانچ وقت ان الفاظ سے اسلام کی منادی ہوتی چلی آئی ہے۔جہاں تک میری سمجھ ، علم اور طاقت پہنچ سکتی ہے میں جانتا ہوں کہ اس اذان میں بڑے اسرار ہیں۔ایک انگریز جس کے ذریعہ سے میں نے عیسائیت کے متعلق اس قدر معلومات پیدا کیں کیونکہ وہ عیسائیت کی بہت ی کتابیں مجھے بھیجا کرتا تھا اس نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ بڑی ترقی کا زمانہ ہے۔امریکہ اور یورپ بہت ترقی کے معراج پر پہنچ گئے ہیں۔میں نے اس سے کہا کہ یورپ اور امریکہ بے چارہ کیا دینی ترقی کرے گا