خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 285 of 703

خطبات نور — Page 285

285 قانون اور زبردست حکم اس قسم کے ہیں کہ انسان بعض بدیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بڑے بڑے فضلوں سے محروم رہ جاتا ہے۔جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کسی حکم اور قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل اور انعام سے محروم کیا جاتا ہے۔اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔استغفار انبیاء علیہم السلام کا اجماعی مسئلہ ہے۔ہر نبی کی تعلیم کے ساتھ اِسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إلَيْهِ (هود:)) رکھا ہے۔ہمارے امام کی تعلیمات میں جو ہم نے پڑھی ہیں استغفار کو اصل علاج رکھا ہے۔استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمد آہوں یا سہواً غرض مَا قَدَّمَ وَمَا أَخَرَ جو نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے، اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نارضامندیوں کو مَا أَعْلَمُ وَمَا لَا أَعْلَمُ کے نیچے رکھ کر آئندہ کے لئے غلط کاریوں کے بدنتائج اور بداثر سے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان بدیوں کے جوش سے محفوظ فرما۔یہ ہیں مختصر معنی استغفار کے۔پھر ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔حضرت امام نے اس زمانہ کو امن کے لحاظ سے نوح کا زمانہ کہا ہے۔حضرت نوح نے جب اپنی قوم کو وعظ کیا اور خدا تعالیٰ کا پیغام اسے پہنچایا تو کیا کہا؟ اِسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا - يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا - وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنَّتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا (نوح: تا ۱۳) - استغفار کے برکات اور نتائج ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام نے انسانی ضروریات کی جہت سے بیان فرمائے ہیں۔غور کر کے دیکھ لو کیا انسان کو انہیں چیزوں کی ضرورت دنیا میں نہیں ہے؟ پھر ان کے حصول کا علاج استغفار ہے۔امن کے زمانہ میں چیزوں میں گرانی ہوتی ہے اور یہ امن کے لئے لازمی امر ہے۔نادان کہتا ہے ایک وقت روپیہ کا من بھر گیہوں ہو تا تھا اور پانچ سیر گھی۔وہ نہیں سمجھتا کہ وہ امن کا زمانہ نہ تھا۔اس لئے تبادلہ تجارت کے لئے لوگ گھر سے مال نکال نہ سکتے تھے۔اور جب امن ہوتا ہے تو تبادلہ اشیاء کی وجہ سے اموال بڑھ جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی فضولیاں بھی بڑھتی ہیں۔، غرض استغفار ایسی چیز ہے جو انسان کی تمام مشکلات کے حل کے لئے بطور کلید ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی حمد اور اس کی استعانت کے لئے استغفار کرو۔مگر استغفار بھی اس وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔اس لئے فرمایا۔وَنُؤْمِنُ بِہ اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ جمیع صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ ہے۔وہ اپنی ذات میں اپنی صفات میں اسماء اور محامد اور افعال