خطبات نور — Page 273
273 کماتا۔جب تقویٰ کے سبب اللہ جلشانہ محبت کرتا ہے تو تقویٰ کیسی عظیم الشان چیز ہے جو خدا کا محبوب بنا دیتی ہے۔یقینا سمجھو کہ سب ذرات عالم اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔جس سے وہ پیار کرتا ہے تمام ذروں کو اس کے تابع کر دیتا ہے۔جو معجزات کے منکر ہیں وہ مانتے ہیں کہ سب ذرے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔پس سارے معجزوں کا دارو مدار اللہ کی قدرت سے وابستہ ہے۔جب وہ کسی سے پیار کرے تو ضرور ہے کہ اس کے لئے اپنی قدرت نمائیاں طرح طرح کے عجائبات کے رنگ میں کرے۔چنانچہ اس نے ایسا کیا۔انسان کو بہت ضرورت ہے اس بات کی کہ کھائے پیئے اور پہنے۔اللہ تعالیٰ متقی کے لئے فرماتا ہے و مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳۳) انسان جب متقی بن جائے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔پس اگر کوئی رزق کا طالب ہے تو اس پر واضح ہو کہ رزق کے حصول کا ذریعہ بھی تقویٰ ہے۔۲۔انسان جب مصیبت میں حوادث زمانہ سے پھنس جاتا ہے اور اس کی بے علمی اسے آگاہ نہیں ہونے دیتی کہ کس سبب سے تمسک کر کے نجات حاصل کرے تو وہ خبیر جو ذرہ ذرہ کا آگاہ ہے فرماتا ہے متقی کو ہم جنگلی سے بچائیں گے۔یر کو بھی انسان بہت پسند کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (الطلاق:۵)۔گویا سکھ بھی متقی ہی کا حصہ ہے۔تاریخ کے صفحوں کو الٹ جاؤ اور دیکھو کہ متقیوں کے مقابلہ میں بڑے بڑے بادشاہ باریک دربار یک تدبیریں کرنے والے مال خرچ کرنے والے، جتھوں والے آئے مگر وہ بھی ان متقیوں کے سامنے ذلیل و خوار ہوئے۔فرعون کی نسبت قرآن مجید میں مفصل ذکر ہے۔حضرت موسیٰ کے بارہ میں کہا وَهُوَ مَهِينٌ وَلا يَكَادُ يُبِينُ (الزخرف:۵۳) ایک ذلیل (اور ہینا) آدمی ہے۔میرے سامنے بات بھی نہیں کر سکتا۔اور اس کی قوم کو غلام بنا رکھا۔مگر دیکھو آخر اس طاقتوں والے شان و شوکت والے جاہ و جلال والے فرعون کا کیا حال ہوا؟ أَغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقره:(۵) تَنظُرُونَ میں ایک خاص لذت ہے۔دشمن کو ہلاک تو کیا مگر آنکھوں کے سامنے۔دشمن تو مرا ہی کرتے ہیں۔مگر آنکھوں کے سامنے کسی دشمن کا ہلاک ہونا ایک لذیذ نظارہ ہے جو آخر اس متقی کو نصیب ہوا۔۔اسی طرح متقی کو عجیب در عجیب حواس ملتے ہیں اور ذات پاک سے اس کے خاص تعلقات ہوتے ہیں۔قرآن مجید میں أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقره (1) بھی متقیوں کے لئے آیا ہے یعنی اگر