خطبات نور — Page 238
238 يُأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر: ١٩) - خطبہ نکاح میں ان آیات کا پڑھنا مسنون ہے اور ہمیشہ سے مسلمانوں کا اس پر عملدرآمد چلا آیا ہے۔ان آیات میں تقویٰ کا حکم ہے۔تقویٰ سے مراد اول عقائد کی اصلاح ہے۔اللہ تعالیٰ کا نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے، نہ صفات میں کوئی شریک ہے اور نہ افعال میں کوئی شریک ہے۔عبادت میں اس کا کوئی شریک بنانا ناجائز ہے۔یہ عقائد میں مرتبہ اول ہے۔دوم۔ملائکہ پر ایمان لانا ہے۔ملائکہ ہمارے دلوں پر نیکیوں کی تحریک کرتے ہیں۔جو شخص اس تحریک کو قبول کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کا تعلق ملائکہ کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور پھر ملائکہ زیادہ سے زیادہ نیک تحریکات کا سلسلہ اس کے دل کے ساتھ لگائے رکھتے ہیں۔جو لوگ شیطان کی تحریک بد کو قبول کرتے ہیں ان کا تعلق شیطان کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور جو لوگ ملائکہ کی تحریک نیک پر عمل درآمد کرتے ہیں ان کا تعلق ملائکہ کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔بیٹھے بیٹھے بغیر کسی بیرونی محرک کے جو انسان کے دل میں ایک نیک کام کرنے کا خیال پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرف توجہ ہو جاتی ہے وہ فرشتے کی تحریک ہوتی ہے۔اور جو بد خیال دل میں اچانک پیدا ہو جاتا ہے وہ شیطان کی تحریک ہوتی ہے۔جس طرف انسان توجہ کرے اسی میں ترقی کر جاتا ہے۔ملائکہ پر ایمان لانے کا مطلب یہی ہے کہ جب کسی کے دل میں نیک تحریک پیدا ہو تو فوراً اس نیکی پر عملدرآمد کرے۔برخلاف اس کے جب بد خیال دل میں آئے تو لاحول پڑھنا اور اعوذ پڑھنا اور بائیں طرف تھوکنا شیطان کی شرارت سے بچانا ہے۔کیونکہ شیطان طرف راست سے نہیں آتا۔وہ راستی کا دشمن ہے۔بلکہ ہمیشہ طرف چپ سے آتا ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور ملائکہ کی نیک تحریکات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو تدبر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور مرسلین کا نیک نمونہ اختیار کرتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ صراط مستقیم پر قدم مارنے کی توفیق دیتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ترقی کرتے ہوئے مکالمہ مخاطبہ الہیہ کی نعمت کے حصول تک پہنچ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی توحید اور ملائکہ پر ایمان کے بعد تیسری بات ایمان بالآخرۃ ہے۔جزاء و سزا کا عقیدہ انسان کے واسطے ترقی کا موجب ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو یہ ترقی بتدریج انسان حاصل کر سکتا ہے۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ترقی کے واسطے بہت سے سامان با آسانی مہیا کر دیئے ہیں۔دیکھو خدا تعالیٰ کا مامور ہمارے سامنے موجود ہے اور خود اس مجلس میں موجود ہے۔ہم اس کے چہرے کو دیکھ سکتے ہیں۔