خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 229 of 703

خطبات نور — Page 229

229 شق دوم۔اور اگر پہلی آیت سے علاوہ رمضان کے دوسرے روزے مراد لئے جاویں مثلاً ایام بیض کے روزے یاستہ شوال وغیرہ جن کی فضیلت بھی کتب معتبرہ احادیث میں لکھی ہوئی ہے اور علماء و فقہاء نے ان روزوں کی فضیلت میں یہاں تک لکھا ہے کہ جس نے رمضان اور ستہ شوال کے روزے رکھے اس نے گویا سال بھر کے روزے رکھ لئے اور اس کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ ہر ایک نیکی کا ثواب وہ اللہ رحمن در حیم دس گنا عطا فرماتا ہے۔کما قال الله تعالى مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (الانعام ) یعنی جو شخص ایک نیکی بجا لاوے گا تو اس کو اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا۔تو تمہیں روزوں کا ثواب تین سو روزوں کا ثواب ہوا اور چھ روزوں کا ثواب ساٹھ روزوں کا ثواب ہوا اور سال تمام کے قمری دن بھی تین سو ساٹھ (۳۶۰) ہی ہوتے ہیں۔علیٰ ہذا القیاس اگر ایام بیض کے تین روزے دس ماہ کے لئے جاویں تو بھی تھیں روزے ہوتے ہیں جس کے تین سو ہوئے اور پھرستہ شوال بھی لیا جاوے جس کے ساتھ ہوئے تو بھی تین سو ساٹھ روزوں کا ثواب حاصل ہو گیا اور صیام فرض رمضان کے اس علاوہ رہتے ہیں۔اور صرف دس ماہ ہی کے ایام بیض اس واسطے لئے گئے کہ ایک ماہ رمضان کا علیحدہ رہا اور چونکہ ستہ شوال کا بھی لے لیا گیا ہے لہذا اس حساب میں شوال کے ایام بیض بھی نہیں لئے گئے بلکہ صرف دس ماہ کے ایام بیض لے لئے گئے ہیں۔الحاصل اندرین صورت چونکہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصيام (البقره: ۱۸۴) سے ان کی فرضیت مفہوم ہوتی ہے حالانکہ یہ روزے ایام بیض وغیرہ کے لازم نہیں ہیں۔اس لئے اس شق کی صورت میں مفسرین اس آیت کو دوسری آیت فَلْيَصُمْهُ اوریا و لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ سے منسوخ قرار دیتے ہیں۔مگر ایک کلام کے سلسلہ میں ایسا ناسخ و مفسوخ ماننا عظمت شان کلام الہی کے بالکل منافی ہے۔چہ جائیکہ بموجب مسلک ان مفسرین کے جو کسی آیت قرآنی کو منسوخ مانتے ہی نہیں۔پھر ایک ایسے کلام کے سلسلہ میں جو متصل ہے ناسخ منسوخ کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔اب خلاصہ کلام یہ ہوا کہ کوئی ایسی توجیہ صرف نظم قرآن مجید سے ہی پیدا کرنی چاہئے جس سے نہ تو کوئی محذوف مانا پڑے، نہ اضمار قبل الذکر لازم آوے نہ ضمیر ذکر کی مونث کی طرف راجع ہو نہ ناسخ منسوخ کا مانا پڑے، نہ کسی قسم کا تخالف آیات مذکورہ کے مفہومات میں لازم آوے اور نہ عدم فرضیت روزوں رمضان کے مفہوم ہو وے کیونکہ عدم فرضیت صیام رمضان کی ادلہ شرعیہ کے محض خلاف ہے۔اگر کسی توجیہ سے یہ تکلفات رفع ہو جاویں تو البتہ ثلج صدر ان آیات کے تفقہ میں حاصل ہو سکتا ہے۔اب اس جلسہ خطبہ میں صرف ایک توجیہ بیان کی جاتی ہے۔اگر اہل علم حاضرین جلسہ کے نزدیک یہ پسند آجاوے تو زہے عزو شرف ورنہ وہ خود بعد خطبہ کے بیان فرما دیں اور اگر بعد خطبہ کے کسی صاحب