خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 207 of 703

خطبات نور — Page 207

207 > پر علاوہ ان میوہ جات غیر موسمی کے میوہ جات غذائے روحانی اور ثمرات نورانی و فرقانی جن سے تمام حقائق اور معارف اسلام کے منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں، متواتر آ رہے ہیں۔وہاں تو اقلام احبار میں سے صرف زکریا کا قلم فائق رہنے سے حضرت مریم ہی حضرت ذکریا کی کفالت میں کی گئی تھی کہ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ (ال عمران:۴۵)، اور یہاں پر اس کے اقلام کے ذریعہ سے وہ کلمات اللہ جن کی نسبت وارد ہے کہ وَلَوْاَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامُ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللهِ (لقمان: ۲۸)۔کل دنیا میں سات سمندروں پار تک پہنچائے جاتے ہیں کیونکہ ظہور القلم اس کے لئے حدیث میں موجود ہے۔وہاں پر مریم کے پاس اگر جسمانی رزق صرف مریم کے لئے بے حساب آتا تھا یہاں پر علاوہ اس رزق جسمانی بے حساب کے رزق روحانی و قرآنی بے حساب تمام عالم کو پہنچایا جاتا ہے کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْنِ وَيَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (براہین احمدیہ)۔اب خلاصة المقال یہ ہے کہ اگر یہ مسیح موعود بنام عیسی و باسم مریم اس آخر زمانہ میں مبعوث بنی اسرائیل میں سے نہ ہو تا تو اصطفا آل عمران کا جو بنی اسرائیل میں سے ہیں کل عالمین پر کیونکر ثابت ہوتا اور پھر اصطفانی اسمعیل کا جو آل ابراہیم سے ہیں اس وقت کل عالمین پر کیونکر واضح ہو تا۔پس ثابت ہوا کہ اصطفا آل عمران کا حسب بیان مذکور مستلزم ہے اصطفا بنی اسمعیل و بنی اسرائیل کو۔اور اصطفا دونوں کا مستلزم ہے اصطفا آل ابراہیم کا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہ جملہ اصطفا مستلزم ہیں اصطفا محمد رسول اللہ ، خاتم النبین رحمۃ للعالمین کو۔وھو المد علہ کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر ز علمان محمد اللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۷ ---- ۷ار مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۸ تا ۱۰) ⭑-⭑-⭑-⭑