خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 703

خطبات نور — Page 142

142 تعظیم لامر اللہ کے لئے تو فَصَلِّ لِرَبِّكَ کا حکم ہے مگر شفقت علی خلق اللہ اور تحمیل تعظیم امرالہی کے لئے وَانْحَرُ (قربانی بھی کرو)۔قربانی کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔جب یہ شروع ہوئی اس وقت دیکھو کیسے مشکلات تھے اور اب بھی دیکھو۔ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔99 برس کی عمر تھی۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولاد صالح عنایت کی۔اسمعیل جیسی اولاد عطا کی۔جب اسمعیل جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دیدو۔اب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دیکھو۔زمانہ اور عمروہ کہ ۹۹ تک پہنچ گئی۔اس بڑھاپے میں آئندہ اولاد کے ہونے کی کیا توقع اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں ساری امیدیں اور تمام ارادے قربان کر دیے۔ایک طرف حکم ہوا اور معابیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا۔پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا! إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي اذْبَحُكَ الصَّفت (۳۳) تو وہ بلا چون و چرا یونی بولا کہ اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّبِرِينَ (الصفت (۳) ابا! جلدی کرو۔ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے، اس کی تعبیر ہو سکتی ہے۔مگر نہیں۔کہا پھر کر ہی لیجئے۔غرض باپ بیٹے نے فرمانبرداری دکھائی کہ کوئی عزت کوئی آرام کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔مگر دیکھو کہ اس میں اور ان میں کیا فرق ہے۔اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اس کے بیٹے کو کیا جزا دی؟ اولاد میں ہزاروں بادشاہ اور انبیاء پیدا کئے۔وہ زمانہ عطا کیا جس کی انتہا نہیں۔خلفا ہوں تو وہ بھی ملت ابراہیمی میں۔سارے نواب اور خلفاء الہی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہونے والے ہیں۔پس اگر قربانی کرتے ہو تو ابراہیمی قربانی کرو۔زبان سے إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (الانعام: ۸۰) کہتے ہو تو روح بھی اس کے ساتھ متفق ہو۔إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام ۱۳) کہتے ہو تو کر کے بھی دکھلاؤ۔غرض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کی فرمانبرداری اور تعمیل حکم کے لئے جو اسلام کا سچا مفہوم اور منشا ہے۔کوشش کرو مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں وسوسے اور دنیا کی اینجا بیچی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے کل قومی اور خواہشوں کو قربان کر ڈالو اور رضاء الہی میں لگا دو تو پھر نتیجہ یہ ہوگا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (تیرے دشمن ابتر ہوں گے)۔انسان کی خوشحالی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ خود اس کو راحتیں اور نفرتیں ملیں اور اس کے دشمن