خطبات نور — Page 86
86 اطاعت، دی تعمیل وی تعظیم اسی طرز و پنج پر امید و ڈر ہرگز نہ ہو اور کسی کو اس کا شریک نہ بتایا جاوے۔جب انسان ان دونوں مرحلوں کو طے کر لیتا ہے یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی چھوڑتا اور اس کی اطاعت اور صرف اس کی اطاعت کرتا ہے تو پھر اس کا آخری مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ متقی ہو جاتا ہے۔تمام دکھوں سے محفوظ ہو کر کچی راحتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے۔پس نوح نے آکر اپنی قوم کے سامنے وہی تعلیم پیش کی جو تمام راستبازوں کی تعلیم کا خلاصہ اور انبیاء اور رسل کی بعثت کی اصل غرض ہوتی ہے اور پھر انہیں کہا اَفَلَا تَتَّقُونَ تم کیوں متقی نہیں بنتے؟ یاد رکھو انسان کو جس قدر ضرورتیں پیش آسکتی ہیں، جس قدر خواہشیں اور امنگیں اسے کسی کی طرف کھینچ کر لے جاسکتی ہیں وہ سب تقولی سے حاصل ہوتی ہیں۔متقی اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے۔اور اللہ سے بڑھ کر انسان کسی دوست اور حبیب کی خواہش کر سکتا ہے۔تقویٰ سے انسان خدا تعالیٰ کی "تولی" کے نیچے آتا ہے۔متقی کے ساتھ اللہ ہوتا ہے۔متقی کے دشمن ہلاک ہوتے ہیں۔متقی کو اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے تعلیم دیتا ہے۔متقی کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے۔اللہ تعالی متلی کو ایسی راہوں اور جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا جیسا که ای حمید و مجید کتاب میں موجود ہے۔إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (التوبة») وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ الْحَالِيةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل) إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال:۳۰) وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة: ۲۸۳) مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳۳)۔اب مجھے کوئی بتادے کہ انسان اس کے سوا اور چاہتا کیا ہے۔اس کی تمام خواہشیں، تمام ضرورتیں ، تمام امنگیں اور ارادے ان سات ہی باتوں میں آ جاتی ہیں اور یہ سب متقی کو ملتی ہیں۔پھر نوح ہی کے الفاظ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کے ارشاد کے موافق میں آج تمہیں بھی کہتا ہوں اَفَلَا تَتَّقُونَ۔تم کیوں متقی نہیں بنتے۔اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ نام ہے اعتقادات صحیحہ اقوال صادقہ اعمال صالحہ علوم حقہ اخلاق فاضلہ ہمت بلند شجاعت استقلال، عفت حلم، قناعت، صبر کا۔اور یہ شروع ہوتا ہے حسن ظن باللہ ، تواضع اور صادقوں کی محبت سے اور ان کے پاس بیٹھنے ، ان کی اطاعت سے۔جبکہ تقویٰ کی ضرورت ہے تو راستبازوں اور ماموروں کا دنیا میں آنا ضرور ہوا اور ان کی تعلیم اور بعثت کا منشا اور مدعا یہی ہوا اور یہی تعلیم لے کر نوح آئے تھے اور انہوں نے قوم کو فرمایا۔مگر نا عاقبت اندیش، جلد باز حیلہ ساز مخالفوں نے اس کے جواب میں کیا کہا ؟ فَقَالَ الْمَلَوا الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (المومنون (۲۵) نابکار اعدائے ملت ائمۃ الکفر نے کہا تو