خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 85 of 703

خطبات نور — Page 85

85 کے حضور سے کس غرض کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں؟ سوم:۔لوگ ان پر کس کس قسم کے اعتراض کرتے ہیں؟ یہ امور اس لئے پیش کئے ہیں تا کسی راستباز مامور من اللہ کی شناخت میں تمہیں کبھی کوئی دقت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے سید و مولی باری کامل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوت کو پیش کرتے ہوئے یہی فرمایا اور یہی آپ کو ارشاد ہوا۔قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعَا مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف:) میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا ہوں۔جو رسول پہلے آتے رہے ہیں ان کے حالات اور تذکرے تمہارے پاس ہیں ان پر غور کرو اور سبق سیکھو کہ وہ کیا لائے اور لوگوں نے ان پر کیا اعتراض کئے۔کیا باتیں تھیں جن پر عملد رآمد کرنے کی وہ تاکید فرماتے تھے اور کیا امور تھے جن سے نفرت دلاتے تھے۔پھر اگر مجھ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے تو اعتراض کیوں ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ان کے معترضوں کا انجام کیا ہوا تھا؟ الغرض پہلے نبیوں کے جو قصص اللہ تعالیٰ نے بیان کئے ہیں ان میں ایک عظیم الشان غرض یہ بھی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آنے والے ماموروں اور راستبازوں کی شناخت میں دقت نہ ہوا کرے۔اس وقت میں نے نوح علیہ السلام کا قصہ آپ کو پڑھ کر سنایا ہے۔سب سے پہلی بات جو اس میں بیان کی ہے و، یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا اصل وعظ اور ان کی تعلیم کا اصل مغز اور خلاصہ کیا ہوتا ہے۔وہ خدا کے ہاں سے کیالے کر آتے ہیں اور کیا سنوانا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے۔اُعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُ اَفَلَا تَتَّقُونَ اللہ جل شانہ کی کچی فرمانبرداری اختیار کرو اس کی اطاعت کرو اس سے محبت کرو اس کے آگے تذلل کرو اسی کی عبادت ہو اور اللہ کے مقابل میں کوئی غیر تمہارا مطاع، محبوب معبود مطلوب امید و بیم کا مرجع نہ ہو۔اللہ تعالٰی کے مقابل تمہارے لئے کوئی دوسرا نہ ہو۔ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تمہیں ایک طرف بلاتا ہو اور کوئی اور چیز خواہ وہ تمہارے نفسانی ارادے اور جذبات ہوں یا قوم اور برادری (سوسائٹی) کے اصول اور دستور ہوں ، سلاطین ہوں، امراء ہوں، ضرور تیں ہوں، غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل میں تم پر اثر انداز نہ ہو سکے۔پس اللہ تعالیٰ کی اطاعت عبادت، فرمانبرداری، تذلل اور اس کی حب کے سامنے کوئی اور شے محبوب معبود مطلوب اور مطابع نہ ہو۔یہ ایک صورت خدا تعالیٰ کے ساتھ ہڈ نہ بنانے کی اعتقادی طور پر ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی بد اور مقابل نہ ہو اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی جس طرح پر عبادت کی جاتی ہے جس طرح اس کے احکام کی تعمیل اور اوامر کی تعظیم کی جاتی ہے، دوسرے کے احکام و اوامر کی ویسی