خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 703

خطبات نور — Page 75

75 کرنے کے واسطے یہاں بیٹھا ہوں۔مجھے بھی مشکلات ہیں۔بعض دوست کہتے ہیں کہ تم الٹی ترقی کرتے ہو پر میں خود ہی سمجھتا ہوں کہ میری مرض گھٹ رہی ہے یا بڑھ رہی ہے۔مشکلات ضرور ہوتے ہیں، تمہیں بھی آئیں گی۔مگر اس بات کی کچھ پروا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہم نے جس کو امام مامور من اللہ مانا ہے اور خدا کے فضل سے علی وجہ البصیرت مانا ہے اس کو خدا کے لئے مانا ہے۔پس ہم کو تو اپنی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔یاد رکھو کہ مزکی کے پاس رہنے کے بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی۔علوم میں سے ہمیں ضرورت ہے اس بات کی کہ اسماء اللہ معلوم ہوں۔خدا تعالٰی کے افعال کا علم ہو۔ایمان کے معنے معلوم ہوں۔کفر اور نفاق کی حقیقت معلوم کریں۔ایک میرے بڑے پڑھے لکھے دوست نے کئی بار مجھ سے پوچھا ہے کہ عبادت کیا چیز ہے؟ پس جب اتنے بڑے علم کے بعد بھی ان کو مشکل پیش آئی تو وائے ان لوگوں پر جو مطلق بے خبر اور ناواقف ہیں۔پرسوں یا اترسوں میں لِغَیر اللہ بہ پر کچھ کہہ رہا تھا کہ ایک بول اٹھا کہ تمہارے نزدیک سارے کافر ہو جاتے ہیں۔پہلا الہام جو ہمارے سید و مولی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو اوہ بھی رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه:) کی دعا تعلیم ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ علم کی کس قدر ضرورت ہے۔نیچے علوم کا مخزن قرآن شریف ہے تو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف کے پڑھنے اور سمجھ کر پڑھنے اور عمل کے واسطے پڑھنے کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اور یہ حاصل ہوتا ہے تقویٰ اللہ سے مامور من اللہ کی پاک صحبت میں رہ کر۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سلامتی، صدق نیت، شفقت علی خلق الله غاليت البعد عن الاغنیاء، آسانی جودت طبع، سادگی اور دور بینی کی صفات سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔ہوں۔ایک اثر میں میں نے پڑھا ہے کہ نماز کی نسبت خطبہ چھوٹا ہو، اس لئے اب میں اس کو ختم کرنا چاہتا اولاد کے لئے ایسی تربیت کی کوشش کرو کہ ان میں باہم اخوت اتحاد جرات، شجاعت، خودداری شریفانہ آزادی پیدا ہو۔ایک طرف انسان بناؤ دوسری طرف مسلمان ۲ 1 الحکم جلد ۵ نمبر ۲ ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۷-۸) و (الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳ ۱۰ اپریل ۱۹۰۱ء صفحه ۳ تا ۷) ا حکم جلد ۵ نمبر ۰۰۱۴ ۱۷ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۳-۴)