خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 74 of 703

خطبات نور — Page 74

74 میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ انسان عبث نہیں بنایا گیا اور اس کو خدا تعالیٰ کے حضور ضرور حاضر ہوتا ہے اور پھر یہ بھی بتایا ہے کہ انسان کی اصل غرض پیدا کرنے کی یہ ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرے۔اللہ تعالٰی کا فرمانبردار ہو۔فرمانبرداری فرمان کے بغیر نہیں ہوتی اور فرمان کی تعمیل جب تک فرمان کی سمجھ نہ ہو نا ممکن ہے۔خدا تعالی کا فرمان قرآن شریف ہے اور اس کی زبان عربی ہے۔پس عربی زبان سے واقفیت پیدا کرو۔پھر امام کی صحبت میں آکر رہو کیونکہ وہ مطر القلب ہے۔قرآن شریف کا علم لے کر آیا ہے۔ایک اور بات ہے جو انسان کو سچائی کے قبول کرنے سے روک دیتی ہے اور وہ تکبر ہے۔خدا تعالٰی نے فرما دیا ہے کہ متکبر کو خدا تعالیٰ کی آیتیں نہیں مل سکتیں۔کیونکہ تکبیر کی وجہ سے انسان تکذیب کرتا ہے اور جھٹلانے کے بعد صداقت کی راہ نہیں ملتی ہے۔پہلے تکذیب کر چکتا ہے پھر انکار کرتا ہے۔یاد رکھو مفتری کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا۔إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ (المومن (۲۹) پس اپنے اندر دیکھو کہ کہیں ایسا مادہ نہ ہو۔کبھی کبھی انسان کی ایک بد عملی دوسری بد عملی کے لئے تیار کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ سے بہت وعدہ کر کے خلاف کرنے والا منافق مرتا ہے۔امام کے ہاتھ پر بڑا زبردست اور الشان وعدہ کرتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔اب سوچ کر دیکھو کہ کہاں تک اس وعدہ کی رعایت کرتے ہو اور دین کو مقدم کرتے ہو۔جب قرآن شریف دیکھا ہے تو انبیا علیم السلام کی اجماعی تعلیم استغفار ہے۔اس کے معنے ہیں اپنی غلطیوں اور ان کے بدنتائج سے بچنے کے لئے دعا کرنا۔پہلے استغفار ہے۔گذشتہ گناہوں کے بد نتائج اور آئندہ ان سے بچنے کی دعا۔اس کے ذنوب سے بچنے کے لئے سعی اور مجاہدہ کرنا اور پھر امرالہی کی تعظیم کرنا اور نواہی سے اللہ تعالٰی کے جلال کو دیکھ کر ہٹ جانا اور ڈر جاتا ہے۔قرآن شریف میں مطالعہ کرو کہ نابکار خدا تعالیٰ سے نہ ڈرنے والوں اور انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ کرنے والے شریروں کا انجام کیا ہوا۔کس طرح وہ ذلت کی مار سے ہلاک ہوئے۔اللہ تعالٰی پر ایمان لاؤ اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ختم نبوت پر تقدیر پر مسئلہ جزا و سزا پر۔اس سب کے بعد رذائل سے بچنے اور فضائل کو حاصل کرنے کی بے تعداد ضرورت ہے۔اور یہ بات حاصل ہوتی ہے کسی برگزیدہ انسان کی صحبت میں رہنے سے جس کو خدا نے اس ہی کام کے لئے مقرر کیا ہے۔مشکلات آتی ہیں اور ضرور آتی ہیں۔مگر مومن کا کام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر کبھی بدظن اور اس سے مایوس نہیں ہوتا۔مجھے اس آیت نے بڑا ہی مزا دیا ہے إِنَّهُ لَا يَايَنسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (یوسف: ۸۸)۔پس مجھے دیکھو کہ کتنی دیر سے کسی استقلال اور ہمت سے محض خدا کو راضی