خطبات نور — Page 620
620 اور اللہ تعالیٰ نے انسان پر بڑے بڑے فضل و احسان کئے ہیں۔اس کے قابو میں خدا نے ہر ایک چیز کر دی ہے۔ہاتھی جیسا بڑا جانور انگوٹھے کے اشارہ پر چلتا ہے۔اونٹ کو ایک نکیل کے اشارہ سے چلا لیتا ہے۔اسی طرح پر ہزاروں کام جانوروں سے نکالتا ہے۔طوطے سے توپ بندوق چلوا لیتا ہے۔بعض لوگ اَحْسَنِ تَقْوِيْم (التین: ٥) کے یہ معنے کرتے ہیں کہ انسان کو خوبصورت بنایا مگر بعض انسان تو سیاہ رنگ اور بدصورت بھی ہوتے ہیں۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز کو اس کے قابو میں کر دیا۔سرکس میں کسی نے تماشہ دیکھا ہو گا کہ کیسے کیسے کام جانوروں سے لیتے ہیں۔یہ سب اللہ کے احسان ہیں۔ہر قوم میں غریب سے غریب اور امیر سے امیر لوگ موجود ہیں۔لیکن امراء کو خیال تک نہیں آتا کہ ہم پر بڑا احسان ہوا ہے۔اس زمانہ کا بڑا کچھڑا روپیہ ہے۔جس کے پاس یہ ہوا اس کی بڑی عزت و توقیر ہوتی ہے۔اگر وہی روپیہ والا انسان غریب ہو جاوے تو اسے پوچھتا بھی کوئی نہیں۔روپے کے پیچھے خواہ نماز روزہ حج جائے مگر کوئی پرواہ نہیں۔اس زمانہ میں نمازیوں کا نام ” قل اعوذی کھڑکنے “ وغیرہ وغیرہ برے لفظوں سے بلاتے ہیں۔امام بننا جو ایک زمانہ میں بادشاہ کا کام ہو تا تھا آجکل جلا ہوں اور غریب قوم کے لوگوں کے سپرد کر رکھا ہے اور خود اس سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ ہم ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں؟ یہ تو ان کی حالت ہے۔موسیٰ نے اپنی قوم کو فرمایا کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ تم توبہ کر لو اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بنو اور اس میں اللہ کے فرمانبردار بن کر داخل ہو اور کہو حِطَّةٌ بس ہمارے گناہ معاف کر دے۔پچھلی بدیوں سے استغفار کر لو اور آئندہ بدیوں سے پر ہیز کرو۔اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ پھر وہ بدیاں معاف ہو جاویں گی۔وَ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ اور ان نیکیوں کے بدلے بڑھ چڑھ کر احسان ہوں گے۔جو آدمی تکبر کرتا ہے اور بغض اور کینہ میں بڑھتا رہتا ہے آخر پھر اس کو اللہ تعالیٰ سے بغض پیدا ہو جاتا ہے۔پھر ایسوں پر عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ا تمہیں محفوظ رکھے۔الفضل جلدا نمبر۱۸-- ۱۵ر اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) ⭑-⭑-⭑-⭑