خطبات نور — Page 584
584 الوہی سیدھا نہیں ہو تاجب تک یہ تمام جہان کے راستبازوں کو اور تمام انسانوں کو گنہگار بد کار اور لعنتی نہ کہہ لیں۔ان میں خوش اخلاقی کہاں سے آگئی۔مومن کا فرض اپنے رب کی تسبیح ہے ان حالات میں مومن کا فرض ہے کہ جناب الہی کی تسبیح کرے۔اس کے اسماء کی تسبیح میں کوشاں رہے۔اس کے انتخاب شدہ بندوں کی تسبیح کرے۔ان پر جو الزام لگائے جاتے ہیں، جو عیوب ان کی طرف شریر منسوب کرتے ہیں ان کا دفاع و ذب کرے اور سمجھائے کہ جنہیں میرا رب برگزیدہ کرے وہ ید کار اور لعنتی نہیں ہوتے۔ان کی تسبیح خدا کی تسبیح ہے۔یہ سنتے ہیں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (الاعلی:۲) کے۔الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى (الا على : ٣) تمہارا خدا تو ایسا ہے کہ اس کی مخلوقات سے اس کی تسبیح و تقدیس عیاں ہے۔اس نے خلق کیا اور پھر تمہارے اندر نسل انسانی کو ایسا ٹھیک کیا کہ سب کچھ اس کے ماتحت کر دیا۔آگ پانی ہو اسب عناصر کو تمہارے قابو میں کر دیا۔وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى (الا على:٤) پھر چونکہ سارے جہان سے اس نے کام لینا تھا اس لئے ہر مخلوق کو ایک ضابطہ و قانون کے اندر رکھا تاکہ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکے اور خدمت لے سکے۔مثلاً یہ عصا ہے۔میں اس سے ٹیک لگاتا ہوں۔اگر بجائے ٹیک کا کام دینے کے یہ یکدم چھوٹا ہو جائے یا مجھے دبائے یا اپنی طرف کھینچ لے تو میرے کام نہیں آسکتا۔پس اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کیا۔یعنی جس ترتیب سے وہ چیز مفید و بابرکت ہو سکتی ہے اس ترتیب سے اس نے بنا دیا اور پھر انسانوں کو اس سے کام لینا سکھایا۔والذى اخرجَ الْمَرْعَى - فَجَعَلَهُ غُنَاء أحوى (الاعلى (٢٥) پھر ان چیزوں پر غور کریں تو ان کا ایک حصہ ردی اور پھینک دینے کے قابل بھی ہوتا ہے یا ہو جاتا ہے۔مثلا کھیتی ہے۔پہلے پھل دیتی ہے۔لوگ مزے سے کھاتے ہیں۔مگر اس کا ایک حصہ جلا دینے کے