خطبات نور — Page 545
۲۰ نومبر ۱۹۱۲ء 545 خطبہ عید اضحی حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۰ / نومبر ۱۹۱۴ء کو نماز عید مسجد اقصیٰ قادیان میں پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ ایڈیٹر کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔آپ نے ایک نوجوان تعلیمیافتہ کا ذکر کیا کہ آپ اس کو قرآن مجید کے احکام کی طرف توجہ دلا رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ مسلمانوں کی ترقی اور بحالی دین کی راہ سے ہو گی۔وہ دین اسلام کے بچے متبع ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ان کی ہر قسم کی ذلتوں اور مصیبتوں کو دور کر دے گا۔مگر اس جنٹلمین نے کہا کہ آپ ہم کو تیرہ سو برس پیچھے لے جا رہے ہیں۔گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے جو اصول عملدرآمد کے تیرہ سو برس پہلے دیئے تھے اس کی نظر میں آج وہ نعوذ باللہ کار آمد نہیں ہیں اور ان پر عمل کرنا ترقی کی روکو تیرہ سو برس پیچھے ہٹانا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس قسم کے خیالات ایک دو نہیں، بہتوں کے دلوں میں ہیں۔پھر آپ نے بتایا کہ یہ تو قرآن مجید اور اسلام کے حدود و شرائع کو باطل کرنے کی ایک کوشش تھی۔نمازوں کے ترک کے لئے پہلی کوشش یوں شروع ہوئی کہ وہ اپنی ہی زبان میں ادا کی جایا کرے۔