خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 539 of 703

خطبات نور — Page 539

اطبات نور 539 قتل کر دیئے۔وہ جو بادشاہ تھا اس نے اپنی بیوی کا نام نسیم سحر" رکھا ہوا تھا۔جس طرح صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے آدمی کو نیند آتی ہے اسی طرح اس کو اپنی بیوی کی صحبت خوشگوار معلوم ہوتی تھی۔جب اس "نسیم سحر کو قتل کیا تو کسی گلی کے کتے ہی چاہتے تھے۔کسی نے کفن تک نہ دیا۔جب بادشاہ نے قید میں پانی مانگا تو فاتح بادشاہ نے سپاہ کو حکم دیا کہ اس کے محل میں سے تمام لعل و جواہرات لوٹ لاؤ۔وہ وحشی لوگ فور آ گئے اور تمام محل کی آرائش کو لوٹ کھسوٹ کر لے آئے تو اس کے سامنے ایک تھالی میں نہایت قیمتی قیمتی جواہرات بھر کر بادشاہ بغداد کے سامنے پیش کئے گئے کہ لو! ان کو پیو۔اور پھر گالی دے کر کہا کہ بد ذات! تو فوج کو تنخواہ نہ دیتا تھا اور تیرے گھر میں اس قدر مال تھا۔یہ کہہ کر اس کا سرا ڑا دیا گیا۔تم اپنی جان پر رحم کرو۔یاد رکھو کہ کسی کا حسن نہ کام آئے گا اور نہ کسی کا مال کام آئے گا نہ جاہ و جلال نہ علم نہ ہنر۔( بدر حصہ دوم۔کلام امیر --۷ / نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۵۸-۵۹) ⭑-⭑-⭑-⭑