خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 532 of 703

خطبات نور — Page 532

532 وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقرۃ:۲۳۹) عورتوں کے ذمہ بھی کچھ حقوق ہیں۔تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہے۔عورت پسلی کی طرح ہے۔اس سے اسی طرح سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اگر سیدھی کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی۔وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء:3) شادی کے بعد لڑکی کے تمام رشتہ دار تمہارے اور تمہارے رشتہ دار لڑکی کے ہو گئے۔آج ہی ”بخاری" کے سبق میں میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسی ملک کی زبان پڑھانے کے لیے اس ملک کا جغرافیہ بھی ضرور معلوم ہونا چاہئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا تو آپ نے فرمایا کہ صفیہ (جو اس فریق کے سردار کی بیٹی تھی) سے میرا نکاح کر دو۔مسٹر میور (MUIR) نے اعتراض کیا۔مگر وہ جانتا نہ تھا کہ ملک عرب میں دستور تھا کہ مفتوحہ ملک کے سردار کی بیٹی یا بیوی سے ملک میں امن و امان قائم کرنے اور اس ملک کے مقتدر لوگوں سے محبت پیدا کرنے کے لیے شادیاں کیا کرتے تھے۔تمام رعایا اور شاہی کنبہ والے مطمئن ہو جایا کرتے تھے کہ اب کوئی کھٹکا نہیں۔چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد تمام یہود نے وہیں رہنا پسند کیا۔اسی طرح مالک بن نویرہ کی بی بی سے جب خالد بن ولید نے نکاح کیا تو وہ تمام لوگ مطمئن ہو گئے۔شاہ امیر ایک شخص ہیں۔ہمارے سید محمد حسین شاہ صاحب کے بھائی۔ان کا نکاح میر حیدر کی لڑکی مسماۃ شہزادی سے ایک ہزار مہر کے عوض کرتا ہوں۔(بدر حصہ دوم۔کلام امیر ---۵/ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۸۹-۹۰) ⭑-⭑-⭑-⭑