خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 494 of 703

خطبات نور — Page 494

494 اللهِ لا تُحْصُوهَا (ابراهیم (۳۵) اگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور غریب نوازیوں کا مطالعہ کرو تو کیا گن سکتے ہو؟ ایک بال جو ان کا سفید ہو جائے تو گھبرا اٹھتا ہے اور حجام بلا کر نوچ ڈالتا ہے۔اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسی نعمت ہے۔پھر کھانے پینے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک کھانا غریب سے غریب آدمی کے سامنے بھی جو آتا ہے تو دیکھو کہ وہ پانی فلہ نمک کہاں کہاں سے آیا ہے اور اگر دال گوشت ، چاول بھی میز پر آجاوے تو دیکھو کہاں کہاں کی نعمت ہے اور ہر ایک کا جدا جدا مزا ہے۔پھر ہوا روشنی وغیرہ کوئی ایک خت ہو تو اس کا شمار اور ذکر ہو۔کسی نے مختصر ترجمہ کیا ہے۔ابر و باد مه و خورشید هم در کار اند تا تو نانے کیف آری و غفلت نکنی سورج چاند کو دیکھتے ہیں۔بادل اور ہوا کو دیکھتے ہیں۔یہ سب تیری روٹی کے فکر میں ہیں۔پھر جس کا کھائیں اور حکم نہ مانیں تو یہ نمک حرامی ہوئی یا کچھ اور ؟ کوئی کسی کا نوکر ہو ، اگر وہ آقا کی فرمانبرداری نہیں کرتا تو وہ نمک حرام کہلاتا ہے۔پھر کس قدر افسوس ہے انسان پر کہ اللہ تعالیٰ کے لاانتہا انعام واکرام اس پر ہوں اور وہ غفلت کی زندگی بسر کرے۔دو قسم کے لوگ دنیا میں ہیں۔ایک کامیاب ہوتے ہیں، فاتح اور ملکوں کے بادشاہ ہوتے ہیں۔صحابہ پر بھی وہ وقت آیا۔اس لئے فرمایا لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ - آجکل جو مشرق و مغرب کی طرف منہ کر رہے ہو جدھر توجہ کرتے ہو جناب الہی دستگیری کر رہا ہے اور خدا کی توجہ بھی اسی طرف ہے۔پس یاد رکھو ہماری مہربانیوں سے آرام پاتے ہو اگر وہ باتیں جو ہم بیان کرتے ہیں تو تمہارا فاتح ہونا اور دلدار ہونا کچھ کام نہیں آئے ال وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ نیک تو وہ شخص ہے یا نیکی تو اس شخص کی ہے جس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔ایمان کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی کامل صفات کو مان لینا۔پھر جب انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے قبضہ قدرت میں یقین کرتا ہے تو پھر اللہ تعالٰی بھی اسی کا ہو جاتا ہے۔مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ لَهُ۔کسی چیز پر ایمان وہ بری ہو یا بھلی اس کی پہچان کیا ہے؟ بھلی چیز پر ایمان ہو تو اس کے لینے میں مضائقہ نہیں کرتا۔مثلا کھانا آتا ہے اور بھوک ہو تو اس کے لینے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے۔لیکن اگر بجائے کھانے کے آگ سامنے رکھ دی جاوے تو ہر چند بھوک ہو مگر چونکہ جانتا ہے کہ یہ آگ ہے، ہاتھ اس کی طرف اٹھتا ہی نہیں۔میرے جیسی فطرت تو آگ کو تاپنا له نقل مطابق اصل