خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 488 of 703

خطبات نور — Page 488

488 ادنی عقل کا زمیندار بھی اسی اصل پر عمل پیرا ہے۔پس خدا جو حکموں میں سے بڑا حکیم ہے وہ بے فائدہ کسی چیز کو کیوں رکھے۔جب انسان اس اصلی غرض کو پورا نہیں کرتا یعنی عبادت جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تو پھر لا محالہ تباہ ہوتا ہے۔ایسا ہی جو اپنے نمونہ سے یا دیگر حالات سے دوسروں کو خدا کی عبادت سے روکتا ہے اسے بھی ہلاک کیا جاتا ہے۔خدا کے مامور دنیا میں بھلائی پھیلانے کے لئے آتے ہیں۔وہ غافلوں کو بیدار کرتے ہیں مگر شریر لوگ بہر صورت اعتراض کرتے ہیں۔اگر کوئی نئی بات سنائے تو کہتے ہیں یہ وہ باتیں سناتا ہے جو پہلوں نے نہیں سنائیں اور اگر وہی اگلی باتیں سنائے تو کہتے ہیں کوئی نئی بات نہیں پیش کرتا۔نادان یہ نہیں سمجھتے کہ جب بدیاں بار بار کی جاتی ہیں اور شیطان اپنا وعظ ہر وقت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ خود انسان کے اندر اس کے نفس کو بطور سفیر چھوڑ رکھا ہے تو کیا خدا اپنی طرف سے کوئی واعظ بار بار وہی نیکیاں سمجھانے کے لئے پیدا نہ کرے؟ تیرہ سو برس سے تو قرآن مجید کا وعظ ہو رہا ہے اور اس سے پہلے بھی کئی نبی آئے اور سب نے توحید کا وعظ کیا تو کیا ساری دنیا توحید پر قائم ہو گئی؟ پس ضرور ہے کہ توحید کا ذکر بار بار کیا جاوے۔یاد رکھو خدا نے حضرت ابراہیم" سے فرمایا تھا کہ اگر لوط کی قوم میں سے پانچ چھ بھی نیک ہوں تو میں ان پر سے عذر اب ہٹالوں گا۔مگر جب اس اندازے پر بھی نیک نہیں رہے تو پھر عذاب الہی آتا ہے۔تم لوگ احمدی ہو اور احمدیت جہاں عذابوں سے بچاتی ہے وہاں سب سے پہلے ملزم بھی ہمیں ہی گردانتی ہے کیونکہ ہم لوگوں نے ایک مامور کو مانا۔اس کے ہاتھ پر خدا و رسول کی اطاعت کا عہد کیا۔اب اس کو توڑیں گے تو سب سے پہلے عذاب کے مستحق، أَعَاذَنَا اللَّهُ مِنْهَا، ہم ہیں۔پس تم خدا کی طرف متوجہ ہو اور عبادت میں لگے رہو اور دعائیں کرتے رہو کیونکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔جب مغز عبادت تم حاصل کرو گے تو پھر تم بلاؤں سے محفوظ رہو گے۔ایک باغبان بھی پھل والی شاخ کو نہیں کاٹتا۔پس تمہارا خدا جو ارحم الراحمین ہے تمہیں ہلاک نہیں کرے گا۔یونس کی قوم کافر تھی۔صرف گڑ گڑانے سے ان پر سے عذاب ٹل گیا۔تو کیا تم جو ایک نبی ایک مامور کے ماننے والے ہو تمہاری دعاؤں میں اتنا بھی اثر نہ ہو گا کہ عذاب الہی ہٹا لیا جائے؟ یونس تو چند ایک بستیوں کی طرف رسول ہو کر آئے تھے مگر تمہارے نبی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تمام جہان کی طرف مامور ہو کر آئے تھے۔پس تم اس کے پیرو ہو۔دعاؤں سے کام لو صدقہ دو استغفار کرو اور خدا کی تسبیح و تقدیس کرو۔اپنے دلوں کو پاک بناؤ کہ جب ایک شریف آدمی اروڑی پر نہیں بیٹھتا تو خدا تمہارے دلوں میں کس طرح نزول فرما ہو سکتا ہے جبکہ ان میں طرح طرح کے گند بھرے ہوئے ہوں۔اپنی