خطبات نور — Page 462
462 نظام الدین اولیاء حضرت چراغ دہلوی، حضرت بہاؤ الدین زکریا ، حضرت نقشبند خواجہ باقی باللہ حضرت مجدد سرہندی، حضرت سید عبد القادر جیلانی ، حضرت ابوالحسن شاذلی حضرت احمد رفاعی یہ تمام گروہ ہی مجھے محبوب نظر آتا ہے۔پھر اس موٹی نے یہ احسان کیا کہ مجھے کسی کا محتاج نہیں کیا اور ہر ضرورت کے موقع پر میری دستگیری کی۔ایک دفعہ ایک امیر کے لئے میں نے عظیم الشان تحفہ تیار کیا اور اس کے پیش کیا۔مگر اس نے میری روٹی بھی نہ پوچھی۔ایک ہتھیار میں نے ایک امیر کے پیش کیا۔دیکھ کر کہنے لگا پسندیدہ ہے۔آپ ہی رکھیئے۔پس کیا ہی محسن ہے میرا مولیٰ جو بلا مانگے مجھ پر اتنے احسان کرتا ہے۔التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ کے یہ معنے ہیں کہ زبان سے اگر ہم تعریف کریں ، ثناء کریں ،غرض تمام شکر گزاریاں جو زبان کے ذریعہ سے ادا ہو سکتی ہیں وہ خدا ہی کے لئے ہیں اور اسی کے لئے ہونی چاہئیں۔اسی طرح بدن کے ذریعہ کوئی شکریہ ادا کیا جاتا ہے اور جو عبادت بدن ادا کرتا ہے مثل سجدہ، حج ، روزہ ، نماز تو وہ بھی اللہ ہی کے لئے ہے۔اسی طرح کل مالی عبادتیں بھی اسی اللہ کے لئے ہیں۔رزق ہماری ضرورت سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔ہم ابھی ماں کے پیٹ سے باہر نہ آئے تھے کہ چھائیوں میں دودھ آیا۔جو نمک ہم آج سالن میں کھاتے ہیں وہ مدت ہوئی کہ کان سے نکل چکا ہے، پھر وہاں سے بڑے شہر میں پہنچا، پھر اس گاؤں کی دکانوں میں آیا ، پھر ہمارے حصہ کا الگ ہو کر گھر آیا ، پھر ہانڈی میں سب کے لئے تھا تو لقمہ کے ساتھ لگ کر میرے منہ میں آیا۔اسی طرح کپڑے کا حال ہے۔غرض کیا کیا احسان ہیں اس مولی کے۔پس مالی شکریہ بھی اسی کے لئے ہونا چاہئے۔یہ غلط ہے کہ خدا نے کسی کو مال دینے میں بخل کیا بلکہ اس نے تو فرما دیا ہے وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (ابراهیم:۳۵)۔پھر اس کے غلط استعمال یا اپنی شامت اعمال نے لا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ اَمْوَالَكُمْ (النساء)) کے ماتحت کسی کے لئے اس میں تنگی پیدا کر دی۔پھر دوسرے درجہ پر محسن ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔کیا کیا تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگی ہوں گی۔کیا سوز دل سے التجائیں کی ہوں گی تب یہ دین اسلام ہم تک پہنچا۔پس السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ میں ہم اس کے لئے سلامتی کی دعا مانگتے ہیں کہ دین اسلام سلامت رہے۔قیامت کے دن اس کی عزت میں فرق نہ آئے۔وہ سید الاولین والآخرین ثابت ہو۔پھر اس چشمہ کو السَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ میں اور بھی بڑھایا ہے۔جس قدر مخلوق میں اولیاء ہیں، خلفاء ہیں، نواب ہیں ، مبلغین ہیں ان سب کے لئے سلامتی چاہی ہے۔میں نے دیکھا کہ ایسی دعا سے بعض وقت آسمان میں شور پڑ جاتا (بدر جلد ۹ نمبر ۱۹ --- ۳ / مارچ ۱۹۱۰ء صفحه ۲) ہے۔