خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 38 of 703

خطبات نور — Page 38

38 طرف قدم بڑھاتا ہے یا دین کو مقدم کرتا ہے۔عامہ مخلوقات کے ساتھ نیکی اور مسلمانوں کے ساتھ خصوصا نیکی کرتا ہے یا نہیں؟ ہر امر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔مقدمہ ہو تو جھوٹے گواہوں، جعلی دستاویزوں سے محترز رہے۔دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے وعظ کہنا بھی مفید امر ہے۔اس سے انسان اپنے آپ کو بھی درست بنا سکتا ہے۔جب دوسرے کو نصیحت کرتا ہے تو اپنے دل پر چوٹ لگتی ہے۔امر بالمعروف بھی ابرار کی ایک صفت ہے اور پھر قسم قسم کی بدیوں سے رکتا ہے۔المختصر يُفَجِّرُونَهَا تفجير ا۔جب خود بھلائی حاصل کرتے ہیں، ظالِمٌ لِنَفْسِهِ ہوتے ہیں تو دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں- يُوفُونَ بالنذر (الدھر یہ جو معاہدہ جناب الہی سے کیا ہو اس کو وفاداری سے پورا کرے اور نیکی بِالنَّذْرِ یوں حاصل کرے کہ میرے ہی افعال نتائج پیدا کریں گے۔ایک فلسفی مسلمان کا قول ہے۔گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِيْنَا وَ يَتِيمًا وَأَسِيرًا (الدھر:۹) اور کھانا دینے میں دلیر ہوتے ہیں۔مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔قرآن کریم میں لباس اور مکان دینے کی تاکید نہیں آئی جس قدر کھانا کھلانے کی آئی ہے۔ان لوگوں کو خدا نے کافر کہا ہے جو بھوکے کو کہہ دیتے ہیں کہ میاں! تم کو خدا ہی دے دیتا اگر دینا منظور ہوتا۔قرآن کریم میں سورۃ لیس میں ایسا لکھا ہے وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا للذين امنوا الطعمُ مَنْ لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ الت ١٣٨ آج کل چونکہ قحط ہو رہا ہے انسان اس نصیحت کو یاد رکھے اور دوسرے بھوکوں کی خبر لینے کو بقدر وسعت تیار رہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے یتیموں، مسکینوں اور پابند بلا کو کھانا دیتا رہے۔مگر صرف اللہ کے لئے دے۔یہ تو جسمانی کھانا ہے۔روحانی کھانا ایمان کی باتیں، رضاء الہی اور قرب کی باتیں، یہاں تک کہ مکالمہ الہیہ تک پہنچا دینا اسی رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔یہ بھی طعام ہے۔وہ جسم کی غذا ہے، یہ روح کی غذا۔منشایہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (الدهر ) کہ ہم اپنے رب سے ایک دن سے جو عبوس اور قمطر پر ہے ڈرتے ہیں۔عبوس تنگی کو کہتے ہیں۔تمطر پر دراز یعنی قیامت کا دن، تنگی کا ہو گا اور لمبا ہو گا۔بھوکوں کی مدد کرنے سے خدا تعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی سے بھی نجات دے دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے فَوَقَهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةً وَ سُرُورًا