خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 703

خطبات نور — Page 37

37 قوی بالکل از کار رفتہ ہوتے ہیں۔یہ کوئی علم نہیں اگر کسی حاکم کو حکومت دی جارے اور وہ فرائض منصبی کو ادا نہ کرے تو نگران گورنمنٹ اس کے وہ اختیارات سلب کر دے گی اور اسے معزول کرے گی اور اگر اس حالت کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی پروا نہ کرے تو یہ امر عاقبت اندیشی اور عقل کے خلاف ہے کہ سست انسان کے پاس رکھی جاوے۔ایسے ہی وہ انسان ہے جو ایمانی قوی کو خرچ نہیں کرتا وہ ابرار کے زمرہ میں رہ نہیں سکتا۔جن کے عقائد حقہ ہیں یعنی وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں۔جزا و سزا اور خدا کی کتابوں اور انبیاء علیهم السلام پر ایمان لاتے ہیں۔پھر ان وسائط کو مانتے ہیں جن کا مقصود اتم فرمان برداری ہے۔پھر عمل کے متعلق کیا چاہئے۔سب سے زیادہ عزیز مال ہے۔پانچ روپے کا سپاہی پانچ روپیہ کے بدلے میں عزیز جان دے دینے کو تیار ہے۔ماں باپ اس روپیہ کے بدلے اس عزیز چہرہ کو جدا کر دیتے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ مال کی طرف انسان بالطبع جھکتا ہے۔لیکن جب خدا سے تعلق ہو تو پھر مال سے بے تعلقی دکھاوے اور واقعی ضرورتوں والے کی مدد کرے۔مسکینوں کو دے جو بیدست و پا ہیں۔رشتہ داروں کی خبر لے۔کوئی کسی ابتلا میں پھنس گیا ہو تو اس کے نکالنے کی کوشش کرے۔مگر سب سے مقدم دوی القربی کو فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذَوِي الْقُرْبی کے ساتھ سلوک کرنا زیادتی عمر کا موجب ہے۔قیموں کی خبر لے۔پھر جو بے دست و پا ہیں ان کی خبر لے۔پھر جو علم پڑھتے ہیں اور خدا تعالی کی رضا کے لئے پڑھتے ہیں اور مصیبت میں جتلا شدہ لوگوں کی خبر لے۔پس جناب الہی کے ساتھ تعلق ہو اور دنیا اور اس کی چیزوں سے بے تعلقی دکھلاوے۔پھر جناب الہی کی راہ میں جان کو خرچ کرے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جان خرچ کرنے کی پہلی راہ کیا ہے؟ نمازوں کا ادا کرنا۔نماز مومن کا معراج ہے۔نماز میں ہر قسم کی نیازمندیاں دکھائی گئی ہیں۔غرض کا فوری شربت پیتے پیتے انسان اس چشمہ پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے شفقت علی خلق اللہ کی توفیق دی جاتی ہے۔پھر بتلایا کہ جو معاہدہ کسی سے کریں اس کی رعایت کرتے ہیں۔مسلمان سب سے بڑا معاہدہ خدا سے کرتا ہے کہ میں ایک نمونہ ہوں گا۔میں فرمان بردار ہوں گا۔میں اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے کسی کو دکھ نہ دوں گا۔اور ایسا ہی ہماری جماعت امام کے ہاتھ پر معاہدہ کرتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔رنج میں ، راحت میں عسر یسر میں قدم آگے بڑھاؤں گا۔بغاوت اور شرارت کی راہوں سے بچنے کا اقرار کرتا ہے۔غرض ایک عظیم الشان معاہدہ ہوتا ہے۔پھر دیکھا جاوے کہ نفسانی اغراض اور دنیوی مقاصد کی