خطبات نور — Page 444
خطرات نور 444 جاوے اور یہ سمجھا جاوے کہ وہ حاضر و غائب ہماری پکار سنتے ہیں؟ یہ جواب جو دیا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو علم غیب یا تصرف دے دیا ہے، صحیح نہیں۔کیونکہ شرک کے معنے ہیں سا جبھی بنانا۔خود بن جاوے یا دینے سے بنے۔یاد رکھو اللہ کا علم ایسا وسیع ہے کہ بشر اس کے مساوی ہو ہی نہیں سکتا۔جو نشان اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت کے لئے بطور نشان رکھے ہیں وہ کسی اور میں نہیں بنانے چاہئیں۔بڑا نشان تذلل کا ہے سجدہ اس سے بڑھ کر اور کوئی عاجزی نہیں۔زمین پر گر پڑے۔اب آگے اور کہاں کدھر جاویں؟ فرماتا ہے لا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ أَحْم السجدۃ:۳۸)۔پس جو غیر کو سجدہ کرے وہ مشرک ہے۔ہاتھ باندھ کر بہیت صلوۃ کسی کے سامنے کھڑے ہونا اور امید و بیم کے لحاظ سے اس کی وہ تعریفیں، جو خدا تعالیٰ کی کی جاتی ہیں، کرنا بھی شرک ہے اور کسی سے سوائے اللہ کے دعا مانگنا بھی۔ہاں دعا کروانا شرک نہیں ہے۔زکوۃ :۔بھی عبودیت کا ایک نشان ہے۔پس مال خرچ کرنا کسی غیر کے نام پر بامید و خوف، نفع و ضرر بھی شرک ہوا۔صوم :۔ایک محبت الہی کا بڑا نشان ہے روزہ۔آدمی کسی کی محبت میں سرشار ہو کر کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور بیوی کے تعلقات اسے بھول جاتے ہیں۔یہ روزہ اسی حالت کا اظہار ہے۔یہ بھی غیر اللہ کے لئے جائز نہیں۔- عاشق جب سنتا ہے کہ میرا محبوب فلاں شخص کو نظر آیا اور فلاں مقام پر ملا تو وہ دیوانہ وار اس کی طرف دوڑتا ہے اور اسے تن بدن کا کچھ ہوش نہیں رہتا۔نہ کرتے کی خبر ہے نہ پاجامہ کی۔پھر وہاں جا کر دیوانہ وار مکانوں میں گھومتا ہے۔بعینہ یہ عبادت حج کا نظارہ ہے۔یہ بھی کسی غیر کے لئے جائز نہیں۔ایک شخص نے مجھے کہا وہاں مکہ میں جا کر کیا لینا ہے؟ علی گڑھ حمایت الاسلام کا جلسہ کافی ہے۔اس کو معلوم نہیں تھا کہ خدا کیا ہے؟ قربانی ایک اور نشان عبودیت ہے اور وہ قربانی ہے۔اس میں یہ تعلیم ہے کہ جس طرح انسان کے سامنے جانور خاموش ہو کر اپنی جان دیتا ہے، اسی طرح خدا کے حضور میں مومن قربان ہو جاوے۔محبت الهی : قرآن شریف نے ایک اور شرک کی طرف بھی توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ امَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ البقرة ٢) یعنی جیسا پیار اللہ سے کرتے ہو یہ کسی اور سے کرنا خدا کا شریک بناتا ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا (البقرة: ند بنتا