خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 432 of 703

خطبات نور — Page 432

432 -(<) (۲)۔ہندو گئو رکھشا بڑے جوش سے کرتے ہیں۔لداخ کے ملک میں تو دودھ تک نہیں پیتے کیونکہ یہ بچھڑوں کا حق ہے اور یہاں کے ہندو تو دھوکہ دے کر دودھ لیتے ہیں مگر پھر بھی اس سے اور اس کی اولاد سے سخت کام لیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے کاموں کے لئے انہیں مار مار کر درست کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔(۷)۔اونی سپاہی اپنے افسر کے لئے اور وہ افسر اعلیٰ افسر کے لئے اور اعلیٰ افسر بادشاہ کے بدلے میں قربان ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اس فطرتی مسئلہ کو برقرار رکھا اور اس قربانی میں تعلیم دی کہ ادنی اعلیٰ کے لئے قربان کیا جاوے۔(۸)۔محبت میں انسان بے اختیار ہوتا ہے۔مگر اس میں بھی قربانیوں کا ایک سلسلہ ہے۔چنانچہ محب بھی بتدریج محبوبوں کے مراتب رکھ کر ایک کو دوسرے پر قربان کرتا رہتا ہے۔اپنا پیسہ یا جان محبوب ہے مگر دو سرے محبوب پر اسے قربان کر دینے میں عذر نہیں۔انسان کو مال کی محبت ہے بی بی کی محبت ہے ، بچوں کی محبت ہے یارو آشنا کی امن و چین کی محبت ہے۔اللہ کی کتابوں اللہ کے رسولوں سے محبت ہے۔کچے علوم سے بھی محبت ہے۔ان تمام محبتوں کے مراتب ہیں اور ادنی کو اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔بات لمبی ہو گئی۔الحمد میں قربانی کی تعلیم میں نے جو آیات پڑھی ہیں ان میں اللہ کا نام ہے۔رحمن کا نام ہے اور رحیم کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کو ایک سو چودہ دفعہ قرآن شریف میں بیان کیا ہے۔ہر مسلمان کو اس کلمہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ایک بار اللہ رحمن رحیم فرما کر پھر تفصیل کے لئے اللہ کے ساتھ رب اور رحمن رحیم کے ساتھ مالک بڑھا دیا ہے جس پر غور کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ ان قربانیوں کی طرف اشارہ فرما رہا ہے۔اللہ کا لفظ معبود کے لئے ہے۔معبود عبادت کو چاہتا ہے۔اور عبادت کیا ہے؟ پرلے درجے کی محبت پرلے درجے کا تذلل ، پرلے درجہ کی اطاعت اور ان باتوں کا پتہ مقابلہ میں لگتا ہے۔ایک شخص ایک طرف حکم کرتا ہے اور دوسری طرف خدا تو اب جو شخص خدا کے حکم کی طرف سبقت کرے کا اس نے گویا خدا کی اطاعت پر دوسروں کی اطاعت کو قربان کر دیا۔انسان محتاج ہے کھانے پینے کا مکان کا غرض ذرے ذرے میں خدا کے حضور اس کی احتیاج ہے۔