خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 703

خطبات نور — Page 35

35 سامان بتلائے ہیں ان کا امتحان کرنا آسان ہے۔غور کرو اور بلند نظری سے کام لو! عرب کو کوئی فخر حاصل نہ تھا۔کس سے ہوا؟ اسی نسخہ سے! کیا عرب میں تفرقہ نہ تھا؟ پھر کس سے دور ہوا؟ ہاں اسی راہ سے!! کیا عرب نابودگی کی حالت میں نہ تھے۔پھر یہ حالت کس نے دور کی؟ مانا پڑے گا کہ اسی نبوت حقہ نے !!! عرب جاہل تھے ، وحشی تھے، خدا سے دور تھے۔محکوم نہ تھے تو حاکم بھی نہ تھے۔مگر جب انہوں نے قرآن کریم کا شفا بخش نسخہ استعمال کیا تو وہی جاہل دنیا کے استاد اور معلم بنے۔وہی وحشی متمدن دنیا کے پیشرو اور تہذیب و شائستگی کے چشمے کہلائے۔وہ خدا سے دور کہلانے والے خدا پرست اور خدا میں ہو کر دنیا پر ظاہر ہوئے۔وہ جو حکومت کے نام سے بھی ناواقف تھے دنیا بھر کے مظفر و منصور اور فاتح کہلائے۔غرض کچھ نہ تھے سب کچھ ہو گئے۔مگر سوال یہی ہے کیونکر؟ اسی قرآن کریم کی بدولت اسی دستور العمل کی رہبری سے۔پس تیرہ سو برس کا ایک مجرب نسخہ موجود ہے جو اس قوم نے استعمال کیا جس میں کوئی خوبی نہ تھی اور خوبیوں کی وارث اور نیکیوں کی ماں بنی۔غرض یہ مجرب نسخہ ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ کے قرب اور سکھ کی تلاش چاہو اسی قدر جن کے محامد الہیہ اور صفات باری تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔کیونکہ اسی قدر انسان رزائل سے بچے گا اور پسندیدہ باتوں کی طرف قدم اٹھائے گا۔حاصل کلام ابرار بننے کے لئے مندرجہ بالا اصول کو اپنا دستور العمل بنانا چاہئے۔میں نے ذکر یہ شروع کیا تھا کہ شاکر گروہ کا دوسرا نام قرآن کریم نے ابرار رکھا ہے اور ان کی جزا یہ بتلائی ہے کہ کافوری پیالوں سے پیئیں گے۔چنانچہ فرمایا إِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَاسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا (الدهر) پہلے ان کو اس قسم کا شربت پینا چاہئے کہ اگر بدی کی خواہش پیدا ہو تو اس کو دبالینے والا ہو۔کافور کہتے ہی دبا دینے والی چیز کو ہیں۔اور کافور کے طبی خواص میں لکھا ہے کہ وہ سمی امراض کے مواد ردیہ اور فاسدہ کو دبادیتا ہے اور اسی لئے وبائی امراض طاعون اور ہیضہ اور تپ وغیرہ میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔تو پہلے انسان یعنی سلیم الفطرت انسان کو کافوری شربت مطلوب ہے۔قرآن کریم نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ (فاطر:۳۳) پھر وارث کیا ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو جو بر گزیدہ ہیں۔پس بعض ان میں سے ظالموں کا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور جبر و اکراہ سے نفس امارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔دوسرا گروہ میانہ رو آدمیوں کا ہے جو بعض خدمتیں خدا تعالی کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے ہے