خطبات نور — Page 417
417 ضرورت وحدت بن میں اس سے بھی کھول کر تم کو سنانا چاہتا ہوں کہ کوئی قوم سوائے وحدت کے نہیں بن سکتی بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کوئی انسان سوائے وحدت کے انسان نہیں بن سکتا۔کوئی محلہ سوائے وحدت کے محلہ نہیں بن سکتا اور کوئی گاؤں سوائے وحدت کے گاؤں نہیں بن سکتا اور کوئی ملک سوائے وحدت کے ملک نہیں سکتا اور کوئی سلطنت سوائے وحدت کے سلطنت نہیں بن سکتی۔دیکھو میری آنکھ تو کہتی ہے کہ یہ زہر ہے۔اب ہاتھ کے کہ مجھے آنکھ کی پروا نہیں اور وہ اٹھا کر وہ زہر کھالیتا ہے تو اس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔اسی طرح گھر کی بات ہے کہ اگر بچہ اپنے مربی اپنے باپ اپنی ماں کی بات نہیں سنتا تو اس کی تعلیم و تربیت کا ستیاناس ہو جائے۔اسی طرح محلہ ملک اور سلطنت کا حال ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی تفسیر میں میں نے مرزا صاحب سے سنا ہے کہ اِهْدِنَا میں نا اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سوائے جماعت کے اللہ تعالیٰ سے بعض خاص فضل کوئی انسان نہیں لے سکتا۔جماعت کی بڑی ضرورت ہے یہاں تک کہ اگر جمع نہ ہو تو خدا کے اس فضل کے جاذب نہیں ہو سکتے۔حسن معاشرت اسی جماعت میں سے چند عورتیں اجڑ کر ہمارے پاس آئیں۔ہم نے ان کے خاوندوں سے خط و کتابت کی۔بعض تو ہمارے سمجھانے میں آگئے اور بعض نے پرواہ نہ کی یہاں تک کہ رجسٹرڈ خطوط کی رسید نہ دی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ظالم طبع لوگ بھی ہماری جماعت میں ہیں مگر الحمد للہ کہ اکثر سمجھانے سے سمجھ جاتے ہیں۔ایک عورت کے خاوند نے مجھے لکھا ہے کہ ہندوستان پنجاب تو سب دیوثوں کا بنا ہوا ہے۔جو کچھ میری عورت کہتی ہے اگر مجھے موقع ملے تو گلا ہی گھونٹ دوں۔میں نے اسے لکھا کہ پہلا دیوث تو نعوذ باللہ وہ ہوا جس پر تم ایمان لائے اور جس نے یہ احکام دیئے کہ عورت سے معاشرت میں نرمی کرو۔خیر وہ سعید تھا سمجھانے سے سمجھ گیا اور توبہ نامہ بھیج دیا۔خیر میں پھر کہتا ہوں کہ جب تک وحدت نہ ہو گی تم کوئی ترقی نہیں کر سکتے۔چودہ سو سے کئی لاکھ حضرت صاحب کے زمانے میں میں نے چودہ سو کارڈ چھپوائے تھے کہ چودہ سو آدمیوں کی جماعت ہو کر 2°