خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 413 of 703

خطبات نور — Page 413

413 موجب ہوا کیونکہ قرآن شریف کی صفت میں بھی یہی آیا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (البقرۃ:۲۷)۔پس اگر میں اور قرآن وعظ میں ایک مقام پر ہو گئے تو پھر اس دنیا میں مجھ سا خوش نصیب اور کامیاب کوئی نہیں۔(۷)۔ایک اور مشکل جو واعظ کے ساتھ لگی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض بہادر اس کی طرف ہمیشہ حمتہ چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی نگرانی ہوتی رہتی ہے۔اگر چہ انہوں نے "نوشت است پند بر دیوار" و غیره کهه کر بہت کچھ اپنے تئیں چھڑایا ہے مگر معترضین نے پیچھا نہیں چھوڑا۔وہ جو معرفت کے خزانے اگلتا ہے اس کی طرف مطلق توجہ نہیں کرتے اور نکتہ چینی کرنے پر تلے رہتے ہیں۔غرض اس قسم کے چھپن دکھ ہیں۔جن میں سے میں نے بہت کم تم لوگوں کو سنائے ہیں کیونکہ یہ بھی آیا ہے۔مَاسَلِمَ الْمِكْتَارُ بہت بولنے والا غلطی سے محفوظ نہیں رہتا۔اسی طرح سننے والوں کو بھی مصیبتیں ہیں۔میں نے ایک لڑکے سے پوچھا کہ آج قرآن شریف کا درس کہاں سے ہو گا؟ تو اس نے کہا۔میں گو دس برس سے سنتا ہوں مگر مجھے کوئی دلچسپی نہیں اس لئے مجھے معلوم نہیں۔دوسرا جو پاس بیٹھا تھا جب اس سے پوچھا تو وہ بھی کہنے لگا کہ وعلی ہذا القیاس۔مجھے خوشی بھی ہوئی اور رنج بھی ہوا۔خوشی اس لئے کہ بہت سی مخلوق ایسی بھی ہوتی ہے جو يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لا يُبْصِرُونَ (الاعراف (199) اور قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (الانفال:۳۲) کی مصداق ہے۔غرض بعض تو ایسے ہیں جو سن کر بھی نہیں سنتے اور بعض سامعین ایسے ہیں کہ انہیں مجلس وعظ میں محض کسی کی دوستی یا کوئی ذاتی غرض لاتی ہے۔بعض نکتہ چینی کے لئے جاتے ہیں۔ان کا خیال واعظ کی زبان کی طرف رہتا ہے۔بس جو نہی کوئی انگریزی یا سنسکرت یا عربی لفظ اس کے منہ سے غلط نکل گیا تو یہ ا مسکرائے۔بس ان کے سننے کا ما حصل صرف یہی ہے کہ وہ گھر میں آکر واعظ کی نقل لگایا کریں۔پھر ایک اور مشکل ہے۔وہ یہ کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔واعظ ایک بات کتاب اللہ سے پیش کرتا ہے۔اب اگر سننے والے میں بھی وہی عیب ہے جو اس واعظ نے بتایا تو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو سنا سنا کر یہ باتیں کرتا ہے اور گویا مجھے طعنے دے رہا ہے حالانکہ واعظ کے وہم میں بھی یہ بات نہیں ہوتی۔غرض دو طرفہ مشکلات ہیں۔ایک طرف واعظ کو اور ایک طرف سامعین کو۔فطرت کا خالق چونکہ اس بھید کو سمجھتا ہے اس لئے اس نے فرمایا۔يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَّ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (البقرة:۳۷)