خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 703

خطبات نور — Page 33

33 توڑنے والے کو راحت کہاں؟ پھر اس کے لئے إِنَّا اعْتَدْنَا لِلْكَافِرِینَ یعنی منکر انسان کے لئے کیا ہوتا ہے۔پاؤں میں زنجیر ہوتی ہے، گردن میں طوق ہوتا ہے جن کے باعث انواع و اقسام راحت و آرام سے محروم ہو جاتا ہے، دل میں ایک جلن ہوتی ہے جو ہر وقت اس کو کباب کرتی رہتی ہے۔دنیا میں اس کا نظارہ موجود ہے مثلا وہی نا فرمان زانی بد کار قسم قسم کے آلام جسمانی میں جتلا ہو کر اندر ہی اندر کباب ہوتے ہیں اور پھر نہ وہاں جا سکتے ہیں نہ نظر اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں۔اسی ہم و غم میں مصائب اور مشکلات پر قابو نہ پاکر آخر خود کشی کر کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ہدایت کے منکروں اور ہادیوں کے مخالفوں نے کیا پھل پایا؟ دیکھو! ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر جنہوں نے اس ابدی راحت اور خوشی کی راہ سے انکار کیا ان کا کیا حال ہوا؟ وہ عمائد مکہ جو ابو جہل، عقبہ شیبہ وغیرہ تھے اور مقابلہ کرتے تھے وہ فاتح نہ کہلا سکے کہ وہ اپنے مفتوحہ بلاد کو دیکھتے اور دل خوش کر سکتے؟ ہر گز نہیں۔ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کی عزت گئی، آبرو نہ رہی مذہب گیا، اولاد ہاتھ سے گئی۔غرض کچھ بھی نہ رہا۔ان باتوں کو دیکھتے اور اندر ہی اندر کباب ہوتے تھے اور اسی جلن میں چل دیئے۔یہ حال ہوتا ہے منکر کا۔جب وہ خد اتعالیٰ کی کسی نعمت کا انکار کرتا ہے تو برے نتائج کو پالیتا ہے اور عمدہ نتائج اور آرام کے اسباب سے محروم ہو جاتا ہے کہ پھر دوسرے گروه إما شاكرا (الدهر (۴) کا ذکر فرمایا کہ شکر کرنے والے گروہ کے لئے کیا جزا ہے۔إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَاسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا (الدھر ) بے شک ابرار لوگ کافوری پیالوں سے پیئیں گے۔ابرار کون ہوتے ہیں؟ جن کے عقائد صحیح ہوں اور ان کے اعمال صواب اور اخلاص کے نیچے ہوں اور جو ہر دکھ اور مصیبت میں اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی نارضامندی سے محفوظ رکھ لیں۔خود جناب الی ابرار کی تشریح فرماتے ہیں۔سورۃ البقرۃ میں فرمایا۔لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوْهَكُمْ (البقرة:۱۷۸) ابرار کون ہوتے ہیں؟ اول جن کے اعتقاد صحیح ہوں کیونکہ اعمال صالحہ دلی ارادوں پر موقوف ہیں۔دیکھو ایک اونٹ کے ناک میں نکیل ڈالے ہوئے ایک بچہ بھی اسے جہاں چاہیے، جدھر لے جائے لئے جاتا ہے۔لیکن اگر کنوئیں میں گرانا چاہیں تو خواہ دس آدمی بھی مل کر اس کی نکیل کو کھینچیں ممکن نہیں وہ قدم اٹھا جاوے۔ایک حیوان مطلق بھی اپنے دلی ارادے اور اعتقاد کے خلاف کرنا نہیں چاہتا۔وہ سمجھتا ہے کہ قدم اٹھایا i