خطبات نور — Page 404
404 کسی دوسرے سے چاہتے ہو؟ دیکھو کوئی نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ دھو کہ کرے یا مجھے فریب دے یا میرا مال کھائے یا میری ہتک کرے یا میرا لڑکا بد صحبت میں بیٹھے۔پس دوسروں کے لئے یہ بات کیوں پسند کی جائے۔(۲) - مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔(ترمذى كتاب الزهد) انسان دیکھے کہ جو کام میں نے صبح سے شام تک کیا ہے کیا اپنے مولیٰ کو بھی راضی کیا ہے؟ کیا ایسی خواہشیں تو اس میں نہیں جو قابل توجہ نہیں ؟ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جو بات قابل توجہ نہیں اسے چھوڑ دے۔(۳) - الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى - (ترمذى كتاب البر) یہ حدیث میرے عنایت فرما استاد نے مجھے اولیت کے رنگ میں سنائی اور اس کا سلسلہ اولیت رسول کریم سے برابر چلا آتا ہے۔جو رحم کرنے والے ہیں ان پر رحمن رحم کرتا ہے جو بہت برکتوں والا بلند شان والا ہے۔تم سب پر رحم کرو۔ماں باپ کے لئے بھی رحم کا ذکر ہے ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا (بني اسرائیل :۲۵)۔بی بی کے لئے بھی مَوَدَّةً وَرَحْمَةٌ (الروم:۳۳) ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمُكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ (ترمذى كتاب (البر) اس حدیث کی تفصیل ہے۔تم اپنی جان پر بھی رحم کرو۔جو گناہ کرتا ہے اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ڈاکہ مارنے جھوٹ بولنے ، چوری کرنے کے لئے اور لوگ تھوڑے ہیں! تم ہی کم از کم خدا کے لئے ہو جاؤ۔(۴) - إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِى مَّا نَوَى (صحیح بخاری باب کیف بدء الوحی) ہے۔یہ امر تو واقعی ہے کہ جو افعال مقدرت انسانی کے نیچے ہیں وہ تمہاری نیست و دلی قصد کے تابع ہیں۔پس جیسے جیسے اعمال میں نیات ہیں ویسے ویسے پھل ملتے ہیں۔اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو اور خدا کے ہو جاؤ پھر یہ دنیا بھی تمہاری ہے۔مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ جے توں اس دا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو ⭑-⭑-⭑-⭑ بدر جلد ۸ نمبر۴۱-۵۰ / اگست ۱۹۰۹ء صفحه ۲)