خطبات نور — Page 351
351 پھر یہ کیسے ہو کہ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔مگر دیکھو اللہ فرماتا ہے کہ تمہارا شعور غلطی کرتا ہے۔میں یہ مسئلہ اپنے بھائیوں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر غیرت پیدا کریں اور بچے جوش جو حق اور راستی کے قبول کرنے سے ان میں موجود ہو گئے ہیں ان کا اظہار کریں اور ہمیں دکھا دیں کہ واقعی ان میں ایک غیرت اور حمیت ہے اور ان مخالفوں سے پوچھیں کہ دشمن جو کہتا ہے کہ ہیضہ سے مرے ہیں۔اچھا مان لیا کہ دشمن سچ کہتا ہے۔پھر ہیضہ سے مرنا شہادت نہیں ہے؟ پیغام صلح جنگ کو ثابت کرتا ہے اور دشمن بھی اس بات کو تسلیم کرنے گا کہ واقعی آپ کی وفات عین جہاد فی سبیل اللہ میں واقع ہوئی ہے۔دشمن نے خود بھی ہر طرح سے مورچہ بندی کی ہوئی تھی اور اپنے پورے ہتھیاروں سے اپنی حفاظت کے سامان کرنے کی فکر میں لگ رہا تھا۔اراکین اور امراء کو دعوت دیکر آپ نے اپنے تمام دعاوی پیش کئے تھے یا کہ نہیں ؟ پس ان سب لوازم کے ہوتے ہوئے بھی اگر دشمن آپ کے احیاء کے قائل نہیں تو جانور ہیں۔۔مانا کہ یہ رنگ ہمارے واسطے ایک ابتلائی رنگ ہے۔صاحبزادہ میاں مبارک احمد کی وفات اور پھر خود حضرت اقدس علیہ الصلوۃ و السلام کا کوچ کرنا واقعی اپنے اندر ضرور ابتلاء کا رنگ رکھتے ہیں مگر اس سے خدا ہم کو انعام دینا چاہتا ہے۔انعام الہی پانے کے واسطے ضروری ہوتا ہے کہ کچھ خوف بھی ہو۔خوف کس کا؟ خوف اللہ کا خوف دشمن کا خوف بعض نادان ضعیف الایمان لوگوں کے ارتداد کا مگر وہ بہت تھوڑا ہو گا۔یہ ایک پیشگوئی ہے اور اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ خدا فرماتا ہے کہ میری راہ میں کچھ خوف آوے گا، کچھ جوع ہو گی۔جوع یا تو روزہ رکھنے سے ہوتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کچھ روزے رکھو اور یا اس رنگ میں جوع اپنے اوپر اختیار کرو کہ صدقہ خیرات اس قدر نکالو کہ بعض اوقات خود تم کو فاقہ تک نوبت پہنچ جاوے۔اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں اتنا خرچ کرو کہ وہ کم ہو جاویں۔اور جانوں کو بھی اسی کی راہ میں خرچ کرو۔علیٰ ہذا پھلوں کو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرو۔وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور ایسے لوگوں کو جو مصائب اور شدائد کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں اور نیکی پر ثبات رکھتے ہیں خدا کو نہیں چھوڑتے اور کہتے ہیں کہ ہم سب الہی رضا کے واسطے ہی پیدا ہوئے ہیں۔جس طرح وہ راضی ہو اس راہ سے ہم اس کے حضور اس کو خوش کرنے کے واسطے حاضر و تیار اور کمر بستہ ہیں۔ہم نے اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔پس جس کے حضور انسان نے ایک نہ ایک دن حاضر ہونا ہے وہ اگر اس سے خوش نہیں تو پھر اس ملاقات کے دن سرخروئی کیسے ہو