خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 350 of 703

خطبات نور — Page 350

350 جانے کے کثیر اخراجات کو برداشت کیا۔غرض اس طرح سے بھی آپ نے لاہور جیسے دارالحکومت میں لوگوں پر اپنی حجت ملزمہ قائم کر دی۔پھر اس کے بعد آخری سفر میں بھی تمام امراء کو دعوت دیکر ان کو اپنے دعاوی، دلائل اعتقاد اور مذہب پہنچا دیا۔آپ نے اپنے پیغام رسالت کو جس شان اور دھوم سے دارالسلطنت میں بار بار پہنچایا، میں نہیں سمجھ سکتا کہ اب بھی کوئی یہ کہہ دے کہ آپ جس کام کے واسطے آئے تھے وہ ابھی پورا نہیں ہوا یا نا تمام رہ گیا۔اب آخر کار اس گرمی کے موسم میں حالت سفر میں اور جنگ میں آپ نے پیغام صلح دیا۔مگر قبل اس کے کہ وہ صلح اپنا عملی رنگ پکڑے خدا نے آپ کو اٹھا لیا تا آپ حالت جنگ میں وفات پانے کا غیر منقطع اجر پاویں۔اب اللہ تعالی کہتا ہے تأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلوة إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ وَ لَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ ہم سناتے ہیں۔ذرا غور سے توجہ سے اور خبردار ہو کر سن لو۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا کہتے ہیں؟ یہی کہ تم ان لوگوں کے حق میں یہ کبھی بھی مت کیو۔جو خدا کی راہ میں جان خرچ کر گئے ہیں اور خدا کی راہ میں شہید ہوئے ہیں کیامت کیو؟ یہ مت کہیو کہ وہ مر گئے ہیں۔وہ مرے نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں۔آپ نے خدا کی راہ میں تبلیغ احکام الہیہ میں خدا کی راہ میں حالت سفر میں وفات پائی ہے۔پس یہ خدا کا حکم ہے اور کوئی بھی اس بات کا مجاز نہیں کہ آپ کو مردہ کہے۔آپ مردہ نہیں، آپ ہلاک شدہ نہیں، بَلْ أَحْيَاءُ بلکہ زندہ ہیں۔یاد رکھو کہ یہ نہی الہی ہے۔ہم وجوہات نہیں جانتے کہ ایسا کیوں حکم دیا گیا بلکہ اس جگہ ایک اور نکتہ بھی قابل یاد ہے اور وہ یہ ہے کہ اور جگہ جہاں شہداء کا ذکر کیا ہے وہاں أَحْيَاء عِنْدَ رَبِّهِمْ کا لفظ بھی بولا ہے مگر اس مقام پر عِندَ ربھم کا لفظ چھوڑ دیا ہے۔دیکھو انسان جب مرتا ہے تو اس کے اجزا متفرق ہو جاتے ہیں۔مگر یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ اس نے حضرت مرزا صاحب کی جماعت کو جو بمنزلہ آپ کے اعضاء کے اور اجزا کے تھی اس تفرقہ سے بچالیا اور اتفاق اور اتحاد اور وحدت کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کر کے آپ کی زندگی اور حیات ابدی کا پہلا زندہ ثبوت دنیا میں ظاہر کر دیا۔صرف تخم ریزی ہی نہیں کی بلکہ دشمن کے منہ پر خاک ڈال کر وحدت کو قائم کر دیا۔دیکھو! یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے الْمَبْطُونَ شَهِيدٌ۔اور دوسری طرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جھنجوڑ کر کہا ہے کہ مردہ مت کہو بلکہ یہ کہو کہ احیاء۔یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ہم نے خود دم نکلتے دیکھا۔غسل دیا، کفن دیا اور اپنے ہاتھوں سے گاڑ دیا اور خدا کے سپرد کیا۔