خطبات نور — Page 349
349 بعض نے اپنی آنکھ سے بھی دیکھا ہو گا کہ حدیث شریف میں آیا۔الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ (بخاری کتاب الجہاد) وہ جو دستوں کی مرض سے وفات پاوے وہ شہید ہوتا ہے۔مبطون کہتے ہیں جس کا پیٹ چلتا ہو یعنی دست جاری ہو جاویں۔اب جائے غور ہے کہ آپ کی وفات اسی مرض دستوں سے ہی واقع ہوئی ہے۔اب خواہ اسی پرانے مرض کی وجہ سے جو مدت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور ایک نشان کے آپ کے شامل حال تھا یا بقول دشمن وہ دست ہیضہ کے تھے ، بہر حال جو کچھ بھی ہو یہ امر قطعی اور یقینی ہے کہ آپ کی وفات بصورت مہلون ہونے کے واقع ہوئی ہے۔پس آپ بموجب حدیث صحیح کہ مبطون جو مرض دست سے خواہ کسی بھی رنگ میں کہو وفات پانے والا شہید ہوتا ہے۔پس اس طرح سے خود دشمنوں کے منہ سے بھی آپ کی شہادت کا اقرار خدا نے کرا دیا۔يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللہ سے مراد لڑائی اور جنگ ہوتی ہے۔لڑائی اور جنگ ہی میں صلح ہوتی ہے۔خدا نے آپ کو پیغام صلح دینے کے بعد اٹھایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب جنگ کا خاتمہ ہونے کو ہے کیونکہ اب صلح کا پیغام ڈالا گیا ہے۔مگر خدا کی حکمت اس میں یہی تھی کہ آپ کو حالت جنگ ہی میں بلا لے تا آپ کا اجر جہاد فی سبیل اللہ کا جاری اور آپ کو رتبہ شہادت عطا کیا جاوے۔یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر اس صلح کی کارروائی کے انجام پذیر ہونے سے پہلے جبکہ ابھی زمانہ زمانہ جنگ ہی کہلاتا تھا اٹھالیا۔عجیب بات یہ ہے کہ آپ نے اس سے کئی سال پہلے ایک دفعہ کل شہر کو بلا کر شیخ میراں بخش کی کو ٹھی میں جو کہ عین شہر کے وسط میں واقع ہے ایک فیصلہ سنایا اور اس کا نام آپ نے فیصلہ آسمانی رکھا۔عزیز عبد الکریم مرحوم کو کچھ تو اس خیال سے کہ ان کی آواز اونچی اور دلربا بھی تھی، شاید ان کو خود ان کی اپنی آواز پر بھی کچھ خیال ہو گا اور کچھ اس جوش سے جو عموماً ایسے موقعوں پر ہوا کرتا تھا اس امر کی درخواست کی کہ میں یہ مضمون سناؤں۔مگر آپ نے بڑے جوش اور غضب سے کہا کہ اس مضمون کا سنانا بھی میرا ہی فرض ہے۔غرض ہزاروں ہزار مخلوق کے مجمع میں ایک مضمون آپ نے بیان کیا اور آپ نے دعاوی کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔پھر اس کے بعد دوسرے موقع جلسہ اعظم مذاہب میں آپ کے بے نظیر اور پر حقایق لیکچر کے سنائے جانے سے دنیا پر حجت قائم ہو گئی۔پھر آپ نے میلہ رام کے مکان پر ایک پر زور لیکچر تحریری اور تقریری دیا۔پھر اس کے بعد آپ نے ہم لوگوں کو حکم دیا کہ آریہ قوم پر بھی حجت قائم کر دی جاوے اور اس غرض کے پورا کرنے کے واسطے آپ نے ایک مضمون دیا جو کہ شہادت کے طور پر سنایا گیا اور جس میں آپ کا حقیقی مذہب اور سچا اعتقاد دلی آرزو سچی تڑپ اور خواہش تھی۔وہ دے کر ہمیں بھیجا اور ہمارے آنے