خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 320 of 703

خطبات نور — Page 320

320 بودی روکوں اور کچی رکاوٹوں کی پرواہ نہ کر کے الْخَيْرُ فِي مَا وَقَعَ کے پاک مقولہ کی یاد سے شاد ہوتا ہوا آئندہ ترقیوں کی تدابیر میں بڑی بلند پروازی اور اطمینان سے کوشاں ہو جاتا ہے۔اور مومن ایسا ہوشیار ہوتا ہے کہ کامیابی کے کل وسائل اور پاک اصول کو وہ خود مہیا کرتا اور پھر ان سے کام لینے کا کوئی بھی دقیقہ اور کسر باقی نہیں رہنے دیتا۔غرض اس دعا کی تہ میں ایک باریک قسم کی تعلیم ہے جو مسلمانوں کو حد درجہ کا ہوشیار، چالاک اور شجاع بناتی اور سستی اور کاہلی سے نفرت دلاتی ہے۔میں ان لوگوں کو جو حضرت اقدس علیہ السلام کی اتباع میں ہمارے ساتھ شامل ہیں خصوصیت سے تاکید کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تم لوگوں نے اپنا ملک چھوڑا وطن چھوڑے، خویش و اقارب یار دوست چھوڑے، قوم سے الگ ہوئے اور ان کے سخت سے سخت فتووں کے نیچے آئے بے دین کافر مرتد ضال مضل کہلائے ہو۔اگر تم بھی علم میں اور پھر عمل میں دین میں اور ایمان میں اپنا اعلیٰ نمونہ نہ دکھاؤ اور بین ثبوت نہ دو کہ واقعی تم نے خدا کی طرف قدم اٹھائے ہیں، بے نظیر ترقی کی ہے اور تمہارے افعال، تمہارے اقوال، تمہارے ظاہر تمہارے باطن، تمہاری زندگی کی موجودہ روش، لباس پوشاک خوراک اس امر کی پکار کر گواہی نہ دے اٹھیں کہ واقعی تم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے اور تمہارے اعمال کی حالت پاکیزگی تمہارے ایمان کے نہایت مضبوط اور غیر متزلزل ہونے اور تمہارے معتقدات کے صحیح ہونے پر شاہد ناطق نہ ہو اور تم میں اور تمہارے غیروں میں ایک نور اور مابہ الامتیاز پیدا نہ ہو جاوے تو بڑے ہی افسوس اور شرم کا مقام ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ اعلم الناس تھے ان کو حکم ہوتا ہے کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طہ:۵) کی دعا کیا کرو۔تو پھر کون امتی ایسا ہے جو دعویٰ کرے کہ مجھے علم کی عمل کی مشورہ کی سیکھنے کی سنے کی اور صحبت پاک کی ضرورت نہیں ہے۔یاد رکھو کہ یہ غلط راہ ہے اور بالکل غلط طریق ہے۔اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔وَ اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبن۔ظاہر ہے کہ جب انسان اپنی مصیبتوں کے رونے روتا رہے اور نہ کام کرے نہ کاج نہ کوشش کرے، نہ سامان مہیا کرے اور نہ ان سے کام لے بلکہ ہاتھ پاؤں توڑ لنگڑے لولوں کی طرح بے دست و پا نکھٹووں، سست اور کاہلوں کی زندگی بسر کرنے کا عادی ہو جاوے تو آسودگی، خوشحالی اور مال و دولت جو کہ کمانے سے محنت اور کوشش کرنے سے انسان کو ملتی ہیں اس کے پاس کہاں سے آجاوے گی۔اور یہ صاف بات ہے کہ جو آگ کھاوے گا انگار ہے گا۔جیسا کرے گا ویسا