خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 703

خطبات نور — Page 317

317 ان کا عمل ہے۔انسان بہت بڑے بڑے ارادے کرتا ہے۔بچپنے سے نکل کر جب جوانی کے دن آتے ہیں اور جوں جوں اس کے اعضا نشو و نما پا کر پھیلتے ہیں اور قومی مضبوط ہوتے ہیں اس کے ارادے بھی وسیع ہوتے جاتے ہیں۔ایک بچہ رونے اور ضد کرنے کے وقت ماں کی گود میں چلے جانے یا دودھ پی لینے سے یا تھوڑی سی شیرینی یا کسی تماشے کھیل سے خوش ہو سکتا ہے اور اس کے بہلانے کے واسطے بہت تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ ایک بچے کی خوشی اور خواہشات کا منزل مقصود بہت محدود ہوتا ہے۔مگر جوں جوں وہ ترقی کرتا اور اس کے قومی مضبوط ہوتے جاتے ہیں توں توں اس کے ارادوں اور خواہشات کا میدان بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔حتی کہ قرآن شریف کی اس آیت اَوَلَمْ نُعَمِّرُكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَاءَ كُمُ النَّذِيرُ (فاضر (۳۸) کا مصداق بن جاتا ہے۔اس دور کا پہلا درجہ اٹھارہ سال کی عمر ہوتی ہے۔اس وقت انسان میں عجیب عجیب قسم کی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ انسان کے قومی بھی مضبوطی اور استوئی کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے ارادے بھی بہت وسیع ہو جاتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نمازی کو جن میں یہ لڑکا بھی داخل ہے طول امل اور ہموم و تموم سے پناہ مانگنے کے واسطے حکم دیا ہے۔ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چار کونہ شکل بنائی اور اس کے وسط میں ایک نقطہ بنا کر فرمایا کہ یہ نقطہ انسان ہے اور دائرہ سے مراد اجل ہے یعنی انسان کو اجل احاطہ کیے ہوئے ہے۔اور پھر انسانی امانی اور آرزوئیں اس سے بھی باہر ہیں۔یہ کچی بات ہے کہ انسان بڑے بڑے لمبے ارادے کرتا ہے جو سینکڑوں برسوں میں بھی پورے نہیں ہو سکتے مگر اس کی اجل اسے ان ارادوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دبا لیتی ہے۔غرض انسان چونکہ بہت لمبے ارادے کر لیتا ہے اور پھر ان میں کامیاب نہیں ہو تا تو اس ناکامی کی وجہ سے انسان میں ”ہم یعنی غم پیدا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسان کو لمبے ارادے کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمَ کے یہی معنے ہیں کہ اے خدا ! میں ان موجبات سے ہی تیری پناہ مانگتا ہوں جو "ہم" کا باعث ہوتے ہیں۔پھر بعض اوقات انسان ناکامی کے وجوہات تلاش کرتے کرتے گزشتہ امور میں غور کرنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں آج سے دو سال پہلے یا چار سال پیشتر اس طرح سے عمل در آمد کرتا تو آج مجھے اس ناکامی کامنہ نہ دیکھنا پڑتا۔اگر ایسا ہوتا تو میں کامیاب ہو جاتا۔اس طرح کے غم کا نام جو گزشتہ غلطیوں اور