خطبات نور — Page 286
286 میں وحدہ لا شریک ہے۔وہ اپنی ذات میں یکتا صفات میں بے ہمتا اور افعال میں لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی (الشوری:۳) اور بے نظیر ہے۔اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنی رضامندی اور نارضامندی کی راہوں کو ظاہر کرتا رہا ہے اور ملائکہ کے ذریعہ اپنا کلام پاک اپنے نبیوں اور رسولوں کو پہنچاتا رہا ہے۔اور اس کی بھیجی ہوئی کتابوں میں آخری کتاب قرآن شریف ہے جس کا نام فضل شفاء رحمت اور نور ہے اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو خاتم النبین ہیں اور اب کوئی نبی اور رسول آپ کے سوا نہیں ہو سکتا۔اس وقت بھی جو آیا وہ آپ کا خادم ہو کر آیا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان کا یہ خلاصہ ہے۔ایمان باللہ جب کامل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہو اس لئے یہ تعلیم دی وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اور ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں۔تو کل سے یہ مطلب ہے کہ ہم میں یہ بات پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں جس مطلب اور غرض کے لئے بنائی ہیں وہ اپنے نتائج اور ثمرات اپنے ساتھ ضرور رکھتی ہیں۔اس لئے اس پر ایمان ہونا چاہئے کہ لابد ایمان کے ثمرات اور نتائج ضرور حاصل ہوں گے اور کفر اپنے بدنتائج دیئے بغیر نہ رہے گا۔انسان بڑی غلطی اور دھوکا کھا جاتا ہے جب وہ اس اصل کو بھول جاتا ہے۔اعمال اور اس کے نتائج کو ہرگز ہرگز بھولنا نہیں چاہئے۔سعی اور کوشش کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔سب کچھ بھی ہو مگر اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں پر پوری اطلاع نہیں رکھتا اور اندرونی بدیوں میں ایسا مبتلا ہو جاتا ہے جو حبط اعمال ہو جاتا ہے اور اصل مقصد سے دور جا پڑتا ہے۔شیطان انسان کو عجیب عجیب راہوں سے گمراہ کرتا ہے اور نفس ایسے دھو کے دیتا ہے اس لئے یہ تعلیم دی نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيِّاتِ اَعْمَالِنَا (مسلم۔ترمذی کتاب النکاح باب خطبة النكاح) یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔بڑی پناہ اور معاذ اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ ہے جو ساری قوتوں اور قدرتوں کا مالک ہے اور ہر نقص سے پاک اور ہر کامل صفت سے موصوف ہے۔کس بات سے پناہ چاہتے ہیں؟ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا انسان کی اندرونی بدیاں اور شرارتیں اس کو ہلاک کر دیتی ہیں۔مثلاً شہوت کے مقابلہ میں زیر ہو جاتا ہے اور ترک عفت کرتا ہے۔بد نظری اور بدکاری کا مرتکب ہو جاتا ہے۔رحم کو چھوڑتا ہے اور غضب کو اختیار کرتا ہے اور کبھی قناعت کو جو سچی خوش حالی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، چھوڑ کر حرص و طمع کا پابند ہوتا ہے۔غرض یہ نفس کا شر عجب قسم کا شر ہے۔اس کے پنجہ میں گرفتار ہو کر انسان بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی بنالیتا ہے اور ہر شخص کو اس کے حسب حال دھوکا دیتا ہے۔مولویوں کو ان کے