خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 272 of 703

خطبات نور — Page 272

۵ار جنوری ۱۹۰۸ء 272 خطبہ عید الاضحیٰ لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَ وهَا وَ لكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج: ۳۸) اللہ تعالیٰ کی کتاب کو غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تقویٰ بہت پسند ہے۔اگر انسان اللہ کے ساتھ سچا معاملہ نہ کرے تو اس کے ظاہری اعمال کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔انسان فطرتا چاہتا ہے کہ کوئی اس کا پیارا ہو جو ہر صفت سے موصوف ہو۔سو اللہ سے بڑھ کر ایسا کوئی نہیں ہو سکتا۔یہ پیارے تو آخر جدا ہوں گے۔ان کا تعلق ایک دن قطع ہونے والا ہے مگر اللہ کا تعلق ابد الآباد تک رہنے والا ہے۔دنیا کی فانی چیزیں محبت کے قابل نہیں کیونکہ یہ سب فنا پذیر ہے۔کیا دنیا میں کوئی ایسی چیز ہے جو بقار کھتی ہے؟ ہرگز نہیں۔پس اس کی رحمت اور اس کے فضل کاسہارا پکڑو اور اسی کو اپنا پیارا بناؤ کہ وہ باقی ہے۔متقی کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (ال عمران (۷۷)۔جب ایک ادنی ساہوکار یا معمولی حاکم کسی سے محبت کرے تو انسان جامہ میں پھولا نہیں