خطبات نور — Page 271
271 ایک عادت ہے۔مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ باتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ قرآن کریم میں لکھا ہے۔وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَهُمْ بِالْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ۔فَلَوْلَا إِذْ جَاءهُمْ بَاسُنَا تَضَرَّعُوا وَ لَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَى حَتَّى إِذَا فَرِحُوْا بِمَا أُوتُوا اَخَذْنَهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ - فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: ۳۳ تا ۴) سو میں نہایت ہی درد بھرے دل سے کروڑوں دفعہ تاکید کے ساتھ کہتا ہوں کہ استغفار اور لاحول کثرت سے پڑھو اور صدقہ اور خیرات بہت کرو اور رو رو کر خدا سے دعائیں مانگو کہ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (یونس (۸۲)۔یہ نہایت ضروری باتیں ہیں جو میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں۔دیکھو چار بلائیں سامنے ہو رہی ہیں۔قحط کو تو خود تم بھی محسوس کر رہے ہو۔اگر انسان بڑی محنت بھی کرے گا تو کس قدر کمالے گا۔عام لوگ تو آٹھ یا نو روپیہ ماہوار سے زیادہ نہیں کما سکتے۔آجکل چھ سیر روپیہ کا آٹا بکتا ہے اور ہر ایک چیز گراں ہو گئی ہے۔اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ بد صحبتوں سے کنارہ کش رہو۔بعض صحبتوں میں بیٹھ کر انسان پھر انھیں کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے اور بعض طبعیتیں ہوتی ہیں کہ وہ دو سروں کا اثر جلدی قبول کرلیتی ہیں۔کسی نے نظم سنائی تو اور اگر کسی نے نشر سنائی تو کسی نے نکتہ چینی کی تو اور اگر کسی نے غیبت شروع کر دی تو ایسی طبیعتوں کے لوگ سب کے شریک ہو جاتے ہیں۔بقدر طاقت اور مقدرت کے انسان کو چاہئے کہ ایسی صحبتوں سے کنارہ کش رہے جن کا اس پر برا اثر پڑتا ہو۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بہت لحاظ رکھو۔میں یہ اللہ کے لئے نصیحت کرتا ہوں۔نمازوں میں بہت دعائیں کرو۔میں خود بھی مانگتا ہوں اس لئے تمہیں بھی کہتا ہوں کہ تم بھی مانگو۔خدا تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت کرے۔آمین۔الحکم جلد نمبر ۴۶-۲۴۰۰ دسمبر۷ ۱۹۰ء صفحہ ۱۱-۱۲) ⭑-⭑-⭑-⭑