خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 703

خطبات نور — Page 266

۸ تو میرے ۱۹۰ء 266 خطبہ عید الفطر عید کے خطبہ میں آپ نے بعد کلمہ تشہد اور استعاذہ قرآن شریف کی آیت يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هي مواقيت لِلنَّاسِ وَالْحَج وَلَيْسَ البريان تاتو البيوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَ لَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَ أتُوا البيوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (البقرة:1) پڑھ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ قرآن شریف کے ذریعہ سے مسلمانوں کو تقویٰ میں ایک ریاضت کرائی جاتی ہے کہ جب مباح چیزیں انسان خدا کی خاطر چھوڑتا ہے تو پھر حرام کو کیوں ہاتھ لگانے لگا۔پھر فرمایا کہ ایک وقت تو خدا تعالیٰ کی صفت رحم اور درگذر کی کام کرتی ہے مگر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب دنیا کے گناہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔پھر بھی ایسے وقت میں ایک سمجھانے والا ضرور آتا ہے جیسا کہ آج ہمارے درمیان موجو ہے اور اس زمانہ میں بائیبل کی کثرت اشاعت جو ہوتی ہے باوجود یکہ عیسائی اپنے عقائد میں اس کو قابل عمل نہیں جانتے۔پھر کروڑوں روپے اس پر خرچ کرتے ہیں۔اس میں بھی یہی حکمت الہی ہے کہ توحید اور عبادت الہی اور اعمال صالح کا وعظ اس کے ذریعہ سے بھی تمام دنیا پر ہو رہا ہے۔صحابہ نے اهلة کے متعلق جو سوال کیا وہ اس واسطے تھا کہ جب رمضان کی عبادت کے