خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 703

خطبات نور — Page 259

259 لوگوں سے میں نے پوچھا ہے کہ جب تم نے میرا نام سنا تھا تو میری یہی تصویر اور موجودہ حالت کا ہی نقشہ آپ کے دل میں آیا تھا یا کچھ اور ہی سماں اپنے دل میں آپ نے باندھا ہوا تھا۔تو انہوں نے یہی جواب دیا ہے کہ جو نقشہ ہمارے دل میں تھا اور جو کچھ ہم سمجھے بیٹھے تھے وہ نقشہ نہیں پایا۔یاد رکھو بہت بدیوں کی اصل جڑ سوء ظن ہوتا ہے۔میں نے اگر کبھی سوء ظن کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے میری تعلیم فرما دی کہ بات اس کے خلاف نکلی۔میں اس میں تجربہ کار ہوں اس لئے نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ اکثر سوء ظنیوں سے بچو۔اس سے سخن چینی اور عیب جوئی کی عادت بڑھتی ہے۔اسی واسطے اللہ کریم فرماتا ہے وَلَا تَجَسَّسُوا نجس نہ کرو۔تجس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کسی کی نسبت سوء ظنی کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب مل جاویں اور پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے اور یہ خیال کر کے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کا کیا جواب دوں گا اپنی بد نلنی کو پورا کرنے کے لئے جنس کرتا ہے۔اور پھر تجس سے غیبت پیدا ہوتی ہے۔جیسے فرمایا اللہ کریم نے وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔غرض خوب یاد رکھو کہ سوء ظن سے نجس اور تجس سے غیبت کی عادت شروع ہوتی ہے۔اور چونکہ آجکل ماہ رمضان ہے اور تم لوگوں میں سے بہتوں کے روزے ہوں گے اس لئے یہ بات میں نے روزہ پر بیان کی ہے۔اگر ایک شخص روزہ بھی رکھتا ہے اور غیبت بھی کرتا ہے اور تجسس اور نکتہ چینیوں میں مشغول رہتا ہے تو وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے جیسے فرمایا اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ۔اب جو غیبت کرتا ہے وہ روزہ کیا رکھتا ہے وہ تو گوشت کے کباب کھاتا ہے اور کباب بھی اپنے مردہ بھائی کے گوشت کے۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ غیبت کرنے والا حقیقت میں ہی ایسا بد آدمی ہوتا ہے جو اپنے مردہ بھائی کے کباب کھاتا ہے۔مگر یہ کباب ہر ایک آدمی نہیں دیکھ سکتا۔ایک صوفی نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص نے کسی کی غیبت کی۔تب اس سے قے کرائی گئی تو اس کے اندر سے بوٹیاں نکلیں جن سے بو بھی آتی تھی۔یاد رکھو یہ کہانیاں نہیں۔یہ واقعات ہیں۔جو لوگ بدظنیاں کرتے ہیں وہ نہیں مرتے جب تک اپنی نسبت بدظنیاں نہیں سن لیتے۔اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور درد دل سے کہتا ہوں کہ غیبتوں کو چھوڑ دو۔بغض اور کینہ سے اجتناب اور بکلی پر ہیز کرو اور بالکل الگ تھلگ رہو۔اس سے بڑا فائدہ ہو گا۔میری نہ کوئی جاگیر مشترکہ ہے نہ کوئی مکان مشترکہ ہے۔میرا کوئی معاملہ دنیا کا کسی سے مشترکہ