خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 703

خطبات نور — Page 228

228 يُطِيقُونَهُ کے پہلے لا مقدر مانا جاوے جیسا کہ بعض مفسرین نے لکھا ہے تو اس طرح سے محذوفات کے ماننے میں مخالف کو بڑی گنجائش مل جاوے گی کہ جس آیت کو اپنے خیال کے مطابق نہ پایا اس کو اپنے خیال کے مطابق کوئی کلمہ محذوفات کا مان کر بنا لیا۔ہاں البتہ اس امر کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرائن سے جملہ کلاموں میں اور نیز قرآن مجید میں اکثر محذوفات مان لئے جاتے ہیں اور اگر ہمزہ باب افعال کا سلب کے لئے کہا جاوے تو اطاق يُطِيقُ کا محاورہ بمعنی عدم طاقت کے عرب عرباء سے ثابت کرنا ضروری ہو گا۔مختار الصحاح میں تو لکھا ہے۔وَالطَّوْقُ أَيْضًا الطَّاقَةُ وَأَطَاقَ الشَّي ءَاطَاقَةً وَهُوَ فِي طَوْقِهِ أَيْ فِي وشعہ۔اور یہی محاورہ مشہورہ ہے۔پس ہمزہ سلب کے لئے اس میں ماننا غیر مشہور ہے اور الفاظ قرآن مجید کے معانی حتی الوسع مشہور ہیں یعنی مناسب ہیں نہ غیر مشہور اور اگر یہ سب کچھ تسلیم بھی کر لیا جاوے تو أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ اس کے منافی ہے کیونکہ اس کا مفہوم صرف روزے رکھنے کی فضیلت ہے نہ تروم روزوں کا۔حالانکہ رمضان کے روزے فرض و لازم ہیں نہ غیر لازم یا اختیاری۔جیسا کہ فلیصمہ اور وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ سے ثابت ہوتا ہے۔اور اگر يُطِيقُونَہ کی ضمیر فدیہ کی طرف راجع کی جاوے تو بلاوجہ توجیہ کے اضمار قبل الذکر لازم آوے گا اور اگر پھر اضمار قبل الذکر بھی تسلیم کر لیا جاوے تو ضمیر مذ کر کی لفظ فدیہ کی طرف جو مونث ہے راجع ہوگی پھر اس میں تاویل در تاویل یہ کرنی پڑے گی کہ مراد فدیہ سے چونکہ طعام ہے اس لئے ضمیر مذکر لائی گئی اور یہ سب امور تکلفات سے خالی نہیں ہیں۔تیسرا امر یہ ہے کہ مریض اور مسافر کا حکم پہلے ایک مرتبہ بیان ہو چکا ہے۔پھر آیت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ القران کے آگے اس کا مکرر لانا کسی فائدہ کے لئے ہے۔اگر کہا جاوے کہ واسطے تاکید کے تو اس پر کہا جاوے گا کہ یہاں پر مقصود تاکید کب ہے۔کیونکہ اول تو بین الفدیہ والصيام اجازت دی گئی ہے اور ثانیاً وَاَنْ تُصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ فرما کر صرف روزے کی فضیلت بیان فرمائی ہے نہ لزوم جس کی تاکید کے لئے فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ دوبارہ فرمایا جاتا۔اندریں صورت تکرار بے سود لازم آتا ہے اور اگر مکرر ہی فرمانا تھا تو وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ کو بھی مکرر لایا جاتا۔خلاصہ یہ کہ ایک جگہ تو فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ اُخَرَ کے آگے وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ بھی فرمایا گیا اور اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ بھی ارشاد ہوا اور دوسری جگہ پر فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ اُخَرَ کے آگے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ارشاد ہوا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں دو قسم کے روزے ہیں جن کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے۔یہ بیان تو اس صورت میں تھا کہ مراد الصیام سے صیام رمضان ہی ہووے۔