خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 703

خطبات نور — Page 227

227 اور تاکہ تم پوری کر لو گفتی قضا شدہ روزوں کی اور تاکہ بڑائی بیان کرو اللہ کی اس پر کہ تم کو ہدایت کی اور تا کہ تم شکر کرو۔واضح ہو کہ یہ آیت دوسرے پارہ کے رکوع میں واقع ہے اور تمہ ہے ان آیات کا جو اس سے پہلے فضیلت صیام میں بیان فرمائی گئی ہیں۔یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ منْ أَيَّامٍ أخر و عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقره: ۱۸۳ ۱۸۵- احادیث میں فضائل روزہ رکھنے کے بہت کثرت سے مکتوب ہیں جن کو محب صادق کسی قدر بدر میں شائع فرما رہے ہیں۔لہذا میں اس وقت بحولہ و قوتہ تعالیٰ صرف قرآن مجید ہی سے کچھ فضائل صیام و ماہ رمضان کے بیان کروں گا۔الا ماشاء اللہ۔لیکن واسطے تفقہ ان آیات کے اولا چند امور کا بیان کر دینا ضروری ہے امید کہ ان کو بتوجہ سنا جاوے گا۔(۱)۔اس آیت سے پہلی آیات میں اگر میام سے مراد الہی رمضان شریف ہی کے روزے لئے جاویں تو تشبیه بلفظ كما بخوبی چسپاں نہیں ہوتی کیونکہ امم سابقہ پر رمضان شریف کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے بلکہ مختلف ایام کے روزوں کا رکھنا بغیر کسی خاص تعین کے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کے الفاظ ايا ما ممَّعْدُودَاتٍ بھی اسی کی طرف ناظر ہیں۔دیکھو کتاب خروج کا باب ۳۴ اور کتاب دانیال کا باب دہم جس میں تین ہفتہ کے روزوں کا رکھنا حضرت دانیال کا ثابت ہوتا ہے اور کتاب سلاطین ۸:۱۹ چالیس دن کا روزہ رکھنا معلوم ہوتا ہے اور اعمال کے ۹:۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی بھی یہ روزے ايا ما مَّعْدُودَاتٍ رکھا کرتے تھے۔غرض کہ تعین ایک ماہ رمضان کا کتب بائیبل سے روزوں کے لئے نہیں پائی جاتی۔ہاں صرف اَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ کے روزے بغیر تعین شہر رمضان کے معلوم ہوتے ہیں۔اور اگر یہاں پر صرف ایک ادنی امر میں ایجاب میں ہی حرف كما تشبیہ کے لئے تسلیم کر لیا جاوے تو دوسرا امر یہ ہے کہ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکین سے رمضان کے روزے رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار ثابت ہو گا۔ہاں البتہ صرف ایک فضیلت ہی روزہ رکھنے کی ثابت ہو سکتی ہے۔كما قال تعالى وَ اَنْ تُصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ۔لیکن در صورتیکه مراد كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ سے رمضان کے ہنی روزے ہو نویں تو یہ مخالف ہے آگے کی آیت کے جو بصیغہ امر فَلْيَصُمْهُ وارد ہے اور نیز مخالف ہے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ کے ، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ تم عدت صيام شهر رمضان کا اکمال کر لو نہ یہ کہ صیام اور فدیہ کے درمیان تم کو اختیار ہو۔اور اگر