خطبات نور — Page 218
218 خالق (بخاری۔کتاب الجنائز) کے اللہ تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت خالصہ کو سمجھ سکتا ہے۔ورنہ اس کی کیا وجہ کہ فونوگراف کا بنانیوالا یہ تو یقیناً جانتا ہے کہ بغیر کاریگر کے فونوگراف خود بخود نہیں بن سکتا، پھر یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ انسان حیوان ناطق، جس کو اپنے وجود اور تربیت میں ہر لحظہ اور ہر آن میں ایک اور رب کی سخت ضرورت ہے، وہ خود بخود موجود ہو گیا ہو اور خود بخود اس نے تمام مراتب تربیت انسانیت کے حاصل کر لئے ہوں؟ دیکھو جس وقت انسان محض نطفہ تھا، مع ہذا اس میں یہ تمام قومی ظاہری اور باطنی اور اعضائے جسمی موجود تھے جو اب پیدا ہو گئے ہیں۔پس وہ نطفہ ہی بزبان حال گواہی دے رہا ہے کہ ایک خالق اور رب اس کا بالضرور ایسا موجود ہے جس نے اس نطفہ میں یہ تمام اعضائے جسمی اور قوائے ظاہری اور باطنی، ہاں اس میں مرکوز رکھے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت السْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوابلى (الاعراف: ۱۷۳) میں اس امر کو واضح طور پر بیان فرما دیا ہے۔پس جبکہ فطرت انسانی ہی اس طرح کی واقع ہوئی ہے جو ابتدائی حالت نطفگی سے ایک خالق و رب کا وجود ضروری سمجھتی ہے تو اسی فطرت صحیحہ کی طرف رجوع نہ کرنا اور اس کی شہادت کو دوبارہ توحید اور ربوبیت خالصہ الہی کے قبول نہ کرنا یہ بھی تکذیب ہے اور اس تکذیب پر بھی کوئی عذر إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (الاعراف:۱۷۳) کا مسموع نہ ہو وے گا اور نہ تقلید آباء و اجداد کی کہ إِنَّمَا أَشْرَكَ ابَاوِنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ (الاعراف: ۷۴) عذر ہو سکے گا۔دوسرے درجہ کی تکذیب جو اس سے قباحت میں بہت بڑھ کر ہے یہ ہے جو ان آیات مذکورہ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اے پیغمبر! ان لوگوں پر اس شخص کا حال بھی تلاوت کر کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیات اور نشانات بھی دیئے تھے۔پس وہ ان آیات سے جدا ہو گیا جیسا کہ مثلا بکرے سے کھال علیحدہ کرلی جاوے۔پس شیطان اس کے پیچھے بانگا تو وہ سخت گمراہوں میں سے ہو گیا۔مفسرین میں اس شخص کی نسبت بڑا اختلاف ہے کہ یہ کون شخص تھا؟ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ و یعنی بلعم باعور که کتب الهی خوانده بود بعد ازاں باغوائے زن خود ایذائے حضرت موسیٰ قصد کرد و ملعون شد"۔تفسیر کبیر میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی بعثت کے وقت میں ایک شخص ام بن ابی الصلت تھا جس کو کتب سابقہ کے علم سے یہ بات معلوم ہو گئی تھی کہ اس وقت میں ایک رسول عظیم الشان مبعوث ہونے والا ہے اور اس کو یہ گمان بھی تھا کہ وہ رسول میں ہی ہوں گا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوئی رسالت فرمایا تو اس کو بڑا رشک اور حسد پیدا ہو گیا اور کمبخت کافرہی مرا۔یہ شخص وہی امیہ بن ابی الصلت ہے جو عرب میں بڑا مشہور شاعر تھا اور جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ امید