خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 11 of 703

خطبات نور — Page 11

11 لاف و گزاف مارنے والے ان کے سامنے شرمندہ ہو جاتے ہیں۔اس کے پاس کتب خانے اور لائبریریاں نہیں ہو تیں۔وہ حکام سے جا کر ملتے نہیں۔مگر وہ ان سب کو نیچا دکھا دیتے ہیں جو اپنے رسوخ اپنی معلومات کی وسعت کے دعوے کرتے ہیں۔برادری اور قوم اس کی مخالفت کرتی ہے مگر آخر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح ان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔یہی ہمیشہ ان کی پہچان ہوتی ہے۔غرض راستباز اور مامور کی شناخت کے یہ نشان خدا تعالیٰ نے خود ہی بیان فرما دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے انعام یاد دلاتا ہے۔ہر ایک مخلوق مخلوق ہونے اچھی قوم میں پیدا ہونے کو دیکھے۔مگر اس میں شبہ پڑے گا کہ اور بھی شریک ہیں۔پھر عقائد کو دنیا کے مقابلہ میں رکھے۔میں نے مذاہب کو بے تعصب ہو کر ٹولا ہے، بت پرستوں آریوں براہموؤں کو دیکھا ہے۔جب ہم ایک خدا کے عقیدے کو پیش کرتے ہیں تو کوئی مذہب بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اللہ تعالیٰ کو تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ مانتا ہو۔یہ فخر اسلام اور صرف اسلام کو ہے۔اس کے ساتھ کیا کوئی عقیدہ مل سکتا ہے؟ پھر انبیاء کو جنہوں نے چھوڑا اور اپنے عقلی ڈھکونسلوں سے اسے پانا چاہتے ہیں وہ ایک گڑھے میں گر رہے ہیں۔ایک مشہور براہمو لیکچرار نے نہایت جوش سے اپنے لیکچر میں کہا کہ اے خدا ! میں ہندوستانیوں کو تیرے پاس پہنچانا چاہتا ہوں مگر وہ نہیں آتے۔ایک شخص کہتا ہے کہ اس کا یہ فقرہ سن کر میں دعا میں گر گیا اور دعا کی کہ اے خدا! تو میرے دل کو کھول دے۔پھر میں استقلال سے اوپر آیا اور کہا کہ میں ایک عرض کرنی چاہتا ہوں کہ آپ نے فرمایا کہ میں ہندوستانیوں کو خدا کے حضور پہنچانا چاہتا ہوں۔میں تیار ہوں۔مگر آپ اتنا فرما دیں کہ کیا آپ یقینا یقیناً مجھے اس کے حضور پہنچا دیں گے؟ چونکہ اس کا انبیاء علیہم السلام اور اللہ تعالی کی کتابوں پر ایمان نہ تھا، گھبرا گیا اور بولا کہ آج تک کی تحقیقات کے بھرو، سنیں سکتا ہوں۔مگر کل معلوم نہیں کیا جدید بات پیش آوے لہذا یقینا نہیں۔اس پر میں نے کہا کہ ایک شخص ایک دعوے اور کامل شعور اور بھروسے سے کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور یقینا پہنچا سکتا ہوں تو پھر اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے یا آپ کی طرف؟ اس کو شرمندہ ہو کر کہنا پڑا کہ ہاں! اس کو ہی مانو!! وہ شخص جو کامل بھروسے اور پورے یقین اور شعور سے خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا دعوی کرتا ہے اور اس نے پہنچا دیا اور پہنچاتا ہے اور پہنچا دے گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کیا وہ جو کہتے ہیں کہ دو ارب سال گزرے خدا تعالیٰ نے ہم کو کتاب دی اور وہ آج تک ایک بھی ترجمہ پیش نہ کر سکے اور اس پر بھی وہ اسے کامل کہتے ہیں، کیا ان کو شرم نہیں آتی؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان چند سال کے اندر خدا تعالیٰ نے