خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 703

خطبات نور — Page 177

177 ایک شخص مامور مرسل تم میں موجود ہے۔تم نے اپنی برادری اور قوم اور خویش و اقارب کی پروانہ کر کے اس کے ہاتھ پر خود کو فروخت کر دیا ہے۔اگر تم میں وہی بلائیں اور ظلمتیں موجود ہیں جو کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ والوں میں تھیں تو تم اس کے راستہ میں روک ڈالتے اور خود فیض سے محروم رہتے ہو۔جو دنیا میں تو اسے قبول کر کے ناپسندیدہ بن گئے مگر اب خدا کے نزدیک نہ بنو۔انسانی ترقی کا بڑا ذریعہ انسان کے ذاتی اخلاق ہوتے ہیں جن سے وہ واحد شخص خود اپنے نفس میں سکھ پاتا ہے اور امن اور آرام کی زندگی بسر کرتا ہے۔مثلاً اگر وہ کسی کی نعمت دیکھ کر حسد نہیں کرتا تو اس سوزش اور جلن سے محفوظ رہتا ہے جو کہ حاسد کے دل کو ہوتی ہے۔اگر کوئی دوسرے کو دیتا ہے تو یہ طمع نہیں کرتا تو اس عذاب سے بچا رہتا ہے جو کہ طمع کرنے سے ہوتا ہے۔ایسے ہی جو لوگ اخلاق فاضلہ حاصل کرتے ہیں وہ جزع فزع شہوت اور غضب کے تمام دکھوں اور آفتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔اور اس سے ظاہر ہے کہ ذاتی سکھ کے ذرائع اخلاق فاضلہ ہیں۔یہ بھی فضل کی ایک قسم ہے جو کہ انسان کو حاصل ہوتا ہے لیکن اس سے وہ نتائج مرتب نہیں ہوتے جو اکٹھا ہونے سے ہوتے ہیں۔یاد رکھو کہ الہی فضل کی بہت قسمیں ہیں۔اکیلے پر وہ فضل نہیں ہوتا جو کہ دو کے ملنے پر ہوتا ہے۔اس کی ایک مثال دنیا میں موجود ہے کہ اگر مرد اور عورت الگ الگ ہوں اور وہ اس فضل کو حاصل کرنا چاہیں جو کہ اولاد کے رنگ میں ہوتا ہے تو وہ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دونوں نہ ملیں اور ان تمام آداب کو بجانہ لاویں جو کہ حصول اولاد کے لئے ضروری ہیں۔اسی طرح ایک بھاری جماعت پر جو فضل الہی ہوتا ہے وہ چند آدمیوں کی جماعت پر نہیں ہو سکتا۔ایک گھر کی آسودگی اور آرام کا فضل اگر کوئی حاصل کرنا چاہے تو جب ہی ہو گا کہ اسے مامائیں، خدمتگار اور سونے کھانے پینے ، نہانے وغیرہ کے الگ الگ کمرہ اور ہر ایک کا الگ الگ اسباب ہونے کی مقدرت ہو۔ایسے ہی اگر ترقی کرتے جاؤ تو بادشاہت اور سلطنت کے فضل کا اندازہ کر سکتے ہو۔اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک تم لوگوں میں باوجود اختلاف کے ایک عام وحدت نہ ہو گی اور ہر ایک تم میں سے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش میں نہ لگا رہے گا تو تم خدا کے اس فضل عظیم کو حاصل نہ کر سکو گے جو ایک بھاری مجمع پر ہوتا ہے۔وَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ الَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال: ۶۴) میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔وحدت کی روح کو جو کہ صحابہ کرام میں پھونکی گئی تھی اس کو خدا تعالی نے اپنے فضل سے تعبیر کیا ہے۔اس وحدت کے پیدا ہونے کے لئے چاہئے کہ آپس میں صبر اور تحمل اور برداشت ہو۔اگر یہ نہ ہو گا اور ذرا ذراسی بات پر روٹھو گے تو اس کا نتیجہ آپس کی پھوٹ ہو